جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 5
خلافت حقه اسلامیه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے بلند روحانی مقام کی نشان دہی کی گئی ہے وہ یہاں نہیں دی جارہی۔5 ان تمام رؤیا اور خوابوں کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کوسوں دور مختلف شہروں کے مختلف باشندوں اور مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے بلا تمیز رنگ ونسل وقومیت کے ایک ہی مفہوم کی خوا ہیں، الہام اور کشوف دیکھے کہ انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سعید روح کی ایشیا میں بھی رہنمائی فرمائی اور ہزاروں کلومیٹر دور افریقہ میں بسنے والے شخص کی بھی اسی رنگ میں رہنمائی فرمائی جبکہ افریقہ میں بسنے والا فرد اس شخص کو جانتا بھی نہیں تھا اور نہ نام سے واقف تھا جس کے بارہ میں رہنمائی کی جارہی ہے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس مرحوم سابق ناظر اصلاح وارشاد نے " بشارات ربانیہ" میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا: آپ لکھتے ہیں۔حدیث نبوى الـمـومـن يــرى ويرى لۂ " کے مطابق ویسے تو ہر مومن کچھ نہ کچھ رویائے صادقہ سے حصہ پاتا ہے اور کبھی اس کے بارے میں دوسروں کو ڈ یا دکھائی جاتی ہیں اور آيت لهم البشري في الحیوۃ الدنیا میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ مومنوں کو اسی دنیا میں رویا کے ذریعہ بشارات دی جاتی ہیں۔لیکن خلافت کی اہمیت اور خدائی منشاء کے اظہار کے لئے اور انتخاب کے بارے میں رہنمائی اور مومنین کے ازدیاد ایمان کے لئے ایسے موقعہ پر کثرت سے خوا ہیں، کشوف اور الہامات ہوتے ہیں۔ان رؤیاء کو ہم حدیث نفس یا اضغاث احلام یا شیطانی وسوسہ اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک یادوافراد کا معاملہ نہیں۔سینکڑوں افراد جو دیانت اور تقویٰ کا ایک معیار رکھتے ہوں۔مختلف مقامات پر مختلف وقتوں میں مختلف طریقوں سے ایک