جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 678 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 678

خلافت خامسه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے 678 پائی۔21 اپریل 2003ء کو خلافت خامسہ کے انتخاب کے لئے تمام جماعت کو نوافل اور دعاؤں کی تحریک کی گئی اُسی رات اس عاجزہ نے بھی رات 1:30 بجے سے 3:00 بجے تک خشوع و خضوع سے نوافل ادا کئے۔اور خدا تعالیٰ سے جماعت احمد یہ اور خلافت کے استحکام اور خلیفہ وقت کے انتخاب کے لئے متضرعانہ اور عاجزانہ دعائیں کیں اور ہر بار اس عاجزہ کے منہ سے یہی دعائیہ کلمات نکلے۔" کہ اے خدا جو حق ہے وہ اس دل میں ڈال دے۔اے خدا جو حق ہے وہ اس دل میں ڈال دے۔" نوافل اور دعا کے بعد عاجزہ ٹیلی ویژن کے سامنے آکر بیٹھ گئی۔نظریں ٹیلی ویژن سکرین پر جمی ہوئی تھیں۔خلافت کمیٹی کا اجلاس جاری تھا۔اس عاجزہ کی آنکھیں نم اور زبان ذکر خدا سے تر تھی۔آخر جب 22 اپریل 2003ء کی صبح سیکرٹری خلافت کمیٹی مکرم و محترم عطاء المجیب راشد صاحب نے رضائے الہی سے منتخب ہونے والے حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے اعلان شروع کیا۔تو اس اعلان کے دوران اس عاجزہ کے اندر سے ایک زبردست آواز آئی۔" حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب" یہ آواز اس قدر پر رعب اور بلند تھی کہ لگتا تھا کہ دل و دماغ کے تمام پردے چیرتی ہوئی باہر نکل جائے گی لہذا اس الہی آواز کو اپنے اندر دبائے رکھنے کے لئے عاجزہ کو اپنا ہاتھ زور سے اپنے منہ پر رکھنا پڑا۔مگر جونہی یہ البہی آواز ختم ہوئی عین اسی لمحے مکرم و محترم عطاء المجیب راشد صاحب نے اس بابرکت نام "حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب " کا انہی الفاظ میں بطور خلیفہ اسیح الخامس اعلان کر دیا۔اس وقت اس عاجزہ کی خوشی اور جذبات تشکر سے جو کیفیت تھی وہ