جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 666
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 666 خواب میں کی ہے تو دل تسلی نہیں پاتا۔چنانچہ ایک یا دو دن کے بعد جب حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا اعلان بطور خلیفہ اسیح الخامس ہوا تو اس وقت بیعت تو کر لی مگر دل میں ایک بات تھی کہ خواب میں تو میں نے بیعت قاضی کی تھی مگر آج اعلان امیر مقامی و ناظر اعلیٰ صاحب کا بطور خلیفہ اسیح کیا گیا ہے۔خدا پر یقین رکھتے ہوئے بیعت کی کہ میری خواب ممکن ہے بچی نہ ہو مگر یہ اعلان بہر حال سچا ہے اور یہ خدائی سلسلہ ہے۔لہذا اپنی خواب کو جھوٹا تصور کرتے ہوئے تو بہ واستغفار کرتے ہوئے اس کو بھلانے کی کوشش کی کیونکہ خواب ایسی تھی جیسے کہ نظارہ صاف اور ستھرا ہے۔بہر حال اگلے ہی دن جب حضرت خلیفہ امسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کا خطبہ جمعہ فرمودہ 12/دسمبر 1997ءM۔T۔A نے بار بار نشر کیا جس میں حضور ( رحمہ اللہ ) نے قاضی کا لفظ ہی استعمال کیا کہ وہ قاضی تھے۔یہ خطبہ سن کر اتنی تسلی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔میں وہ جذبات نوک قلم پر نہیں لاسکتا کہ کس طرح میرے رب نے میری تسلی کے سامان پیدا کئے۔اپنے رب کے سلوک پر خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا اور آج بھی ہوں جو دلوں کی تسلی کے سامان پیدا کرتا ہے۔تاریخ تحریر 27 اکتوبر 2005ء) ۱۸۰ مکرم ماسٹر محمود احمد صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمد یہ خانیوال ساکن بستی ظہور آباد یہ مبارک خواب مورخہ 20 را پریل 2003 علی اصبح چار بجے کے بعد آیا۔اور صبح 9 بجے مکرم ومحترم نعیم احمد چوہدری مربی سلسلہ ضلع کو یہ خواب بتایا اور ان کے علاوہ کسی کونہیں بتایا۔