جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 637
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 637 ۱۴۵ مکر مہ امتہ الرافع قریشی صاحبہ۔ہمبرگ جرمنی جب حضرت خلیفہ مسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) کی وفات کی اطلاع ملی تو میرا دماغ بالکل ماؤف ہو گیا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوگئی۔یہ ایک ایسی حقیقت تھی جس کا یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔موت برحق ہے اس لئے میں نے خدا سے دعا کی کہ اے اللہ میرے دل کو صبر عطا فرما۔اور ہمارے جو بھی نئے خلیفہ ہوں ہمیں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما۔میرے دل میں دو نام تھے۔لیکن خلیفہ خدا بناتا ہے۔اس کا پکا یقین مجھے پہلے خواب اور پھر آپ کے بیعت لینے سے ہو گیا۔میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ میں بہت گنہگار ہوں مگر پھر بھی میری دلی خواہش ہے کہ تو مجھے آئندہ ہونے والے میرے اپنے آقا کی کچھ تو جھلک دیکھا۔اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ نئے خلیفہ کا انتخاب ہو گیا ہے اور ان کا نام مرزا سے شروع ہوتا ہے اگلا نام میرے ذہن میں نہیں آتا۔پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ شیروانی اور جناح کیپ میں چھوٹی داڑھی والے درمیانی عمر کے ایک شخص کھڑے ہیں۔اور معلوم ہوتا ہے کہ یہی ہمارے نئے خلیفہ ہیں۔میں ان کو دیکھتی ہوں تو اتنی حیران ہوتی ہوں کہ ان کا نام تو میرے ذہن میں بالکل نہیں آیا یہ کیسے ہو گیا۔کیونکہ جو نام میرے ذہن میں تھے ان کے شروع میں مرزا نہیں آتا تھا۔اور جب آپ کا انتخاب ہو گیا تو خدا کے فضل سے ہمارے خلیفہ کی صورت میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب بیت الفضل سے باہر تشریف لائے تو میرا دل بے اختیار کہہ اٹھا کہ وہ آپ ہی تھے جن کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اور مرزا سے آگے والا نام آپ ہی کا تھا۔( تاریخ تحریر 27 جولائی 2004ء)