جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 614
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -ii 614 مورخہ 18-19 را پریل 2003 ء خواب بوقت سحر دیکھا خاکسار غالبا ر بوہ میں کسی جگہ پر کھڑا ہے کہ کسی نے کہا ہے کہ مکرم برکت اللہ محمود صاحب مربی سلسلہ آئے ہیں۔اور پھر جناح کیپ، اچکن اور سفید شلوار میں ملبوس چھوٹی داڑھی والے درمیانی عمر کے ایک بزرگ آتے ہیں۔اور کسی نے کہا کہ مربی صاحب آگئے ہیں۔یا کہا کہ مربی صاحب ہیں۔پھر دیکھتا ہوں کہ جہاں مربی صاحب آئے ہیں وہ ایک کلاس روم ہے اور طلباء قطاروں میں بیٹھے امتحان دے رہے ہیں اور وہ مربی صاحب استاد ہیں۔اور انہوں نے کسی طالب علم کی طرف کچھ کاغذ غصہ سے پھینکے ہیں۔خاکسار خواب میں ہی سوچتا ہے کہ یہ مربی سلسلہ ہیں یا استاد ہیں اور ان کا نام برکت اللہ محمود ہے، مشہور ہے، مسعود ہے یا منصور ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔نماز فجر کے بعد خاکسار نے بیت الحمد میں کسی دوست سے برکت اللہ محمود صاحب کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ملتان میں مربی تھے اور اب وفات پاچکے ہیں۔خاکسار کو بھی یاد آ گیا لیکن انہیں دیکھا ہوا نہیں تھا۔اس روز خاکسار مظفر گڑھ اپنے سینٹر سے کوٹ ادو اور قصبہ گجرات کے دورے پر پلا گیا۔واپسی پر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی وفات کی اطلاع ملی۔تو اچانک دونوں خواب متحضر ہو گئے۔پہلے خواب میں مکرم شاہ صاحب کا لباس حلیہ اور نورانی چہرہ ایک یوم پہلے، حضور رحمہ اللہ کے خطبہ میں، حلیہ اور نور والا تھا۔اور چار بزرگ مسیح موعود“ اور تین خلفاء تھے جو انہیں آسمان سے آکر اوپر ہی لے گئے۔اور نام کے لحاظ سے بھی احمد کا علی چوتھے خلیفہ کی طرف اشارہ تھا۔