جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 582
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوابیں اور الہی اشارے ۹۱ مکرمہ فرزانہ اجمل صاحبہ بنت محمد اجمل پارہ چنار کرم ایجنسی۔سرحد 582 حضرت خلیفہ المسیح الرابع (رحمہ اللہ) کی وفات سے دو تین ماہ قبل خواب میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد کو دیکھ لیا تھا۔اس سے پہلے نہ آپ کو دیکھا تھا نہ جانتی تھی اور نہ کبھی آپ کا نام سنا تھا۔میں نے خواب دیکھا تھا کہ آسمان پر مکہ معظمہ اور بوہ کی کوئی بیت الذکر ہے۔اور آسمان گہرا کالا نیلا ستاروں سے بھرا ہے اور کھجوروں کے درخت ہیں اور اونٹ گزر رہے ہیں۔اور اچا نک آواز آتی ہے کہ "انا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت مرزا طاہر احمد وفات پاگئے ہیں۔" میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی باہر صحن میں آئی۔بھائی بھی آگئے تھے میں نے خواب سنائی (انہوں نے کہا ویسے ہی ) وہ حضور بیمار ہیں تو تمہارے دماغ میں یہ بات ہے۔خیر میں پھر سوگئی۔دوبارہ خواب پھر وہیں سے شروع ہوئی جو پہلے میں نے لکھی ہے۔پھر آسمان پر سرخ سبز نیلا رنگ مکس ہو کر ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے پھر وہ رک گئے اور اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں وہ ایک ایک کر کے سارے آتے ہیں۔اور پھر آسمان صاف ہو جاتا ہے۔اور روشن صبح ہو جاتی ہے بادل ہوتے ہیں۔اور ستارے بھی ہوتے ہیں پھر ایک تصویر ابھرتی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہوتی ہے اور ان کی گود میں ایک بچہ ہوتا ہے۔اور ایک ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔وہ تصویر میں نے ایک کتاب میں بھی دیکھی ہے ) ادھر تھوڑی سی خواب بھول گئی ہوں کہ کیا آواز آتی ہے۔پھر آواز آتی ہے۔یہ نئے خلیفہ ہیں اور ایک آسمان پر تصویر ابھرتی ہے جب میں غور سے دیکھتی ہوں تو وہ دھندلا جاتی ہے۔اور ساتھ نام بھی لکھا ہوتا ہے۔پانی کی طرح ہو جاتی ہے۔