جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 513
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 513 میں لوگ کھڑے ہیں۔اور اس موقعہ پر خاکسار بھی ان میں شامل ہے۔خدام حسب معمول بڑی مستعدی سے ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔جنازہ آہستہ آہستہ جارہا ہے اور جنازہ کے پیچھے ایک بہت بڑا ہجوم ہے۔جوں جوں جنازہ آگے بڑھ رہا ہے اور جنازے کے ساتھ لوگ بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور جو لوگ آگے ہیں الٹے پاؤں پیچھے ہٹتے جاتے ہیں اور جب جنازہ مین جامعہ نصرت ربوہ کے سامنے سے گزر رہا ہوتا ہے تو خاکسار نے دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) بھی جنازہ کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔تو خواب میں میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ حضور ( رحمہ اللہ ) تو زندہ ہیں اور اسی لمحہ نظارہ بدلتا ہے اور حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا چہرہ مبارک دھندلا سا دکھائی دیا اور ساتھ ساتھ جنازہ آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔اور لجنہ اماءاللہ کے دفتر کے قریب بہشتی مقبرہ کی طرف مڑتا ہے تو دوبارہ یہ نظارہ دہرایا گیا ہے۔حضرت مرزا مسرور احمد کا چہرہ مبارک بہت واضح اور صاف مع پگڑی دکھائی دیتا ہے حتی کہ جنازہ بہشتی مقبرہ پہنچ کر رکھ دیا جاتا ہے۔اور نماز جنازہ کے لئے قطار میں بن رہی ہیں۔بعدۂ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ) کی نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ پڑھنے کے دوران ہی خواب میں میرے دل میں سے آواز نکلی کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ) کی وفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے قریب ہوگی۔اس کے بعد خاکسار کی آنکھ کھل گئی۔( تاریخ تحریر 07 /اگست 2005ء)