جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 45 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 45

خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 45 " جو کچھ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو نصرت کے لئے محبت اور ہمدردی کا آپ کو جوش بخشا ہے وہ تو ایسا امر ہے جس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔اَلحَمدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْطَانِي مُخْلِصًا كَمِثْلِكُمْ مُحِبًا كَمِثْلِكُمْ نَاصِرافِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمِثْلِكُمْ وَهَذِهِ كُلُّهُ فَضْلُ اللَّهِ مکتوبات احمد یہ جلد 5 نمبر 2 صفحہ 127) قیام بھیرہ کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو یہ خط لکھا۔یقین کہ آئمکرم بخیر وعافیت بھیرہ میں پہنچ گئے ہوں گے میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالی بہر حال آپ سے بہتر معاملہ کرے گا۔میں نے کتنی دفعہ جو توجہ کی تو کوئی مکروہ امر میرے پر ظاہر نہیں ہوا۔بشارت کے امور ظاہر ہوتے رہے اور دودفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔إِنِّي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَارَىٰ ایک دفعہ دیکھا کہ گویا ایک فرشتہ ہے اس نے ایک کاغذ پر مہر لگا دی اور وہ مہر دائرہ کی شکل پر تھی۔اس کے کنارہ پر محیط کی طرف اعلیٰ کے قریب لکھا تھا۔نورالدین اور درمیان یہ عبارت تھی۔ازواج مطہرۃ۔میری دانست میں ازواج دوستوں اور رفیقوں کو بھی کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نورالدین خالص دوستوں میں سے ہیں کیونکہ اسی رات اس سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ فرشتہ نظر آیا۔وہ کہتا ہے کہ تمہاری جماعت کے لوگ پھرتے جاتے ہیں فلاں فلاں اپنے اخلاص پر قائم نہیں رہا۔تب میں اس فرشتہ کو ایک طرف لے گیا اور اس کو کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں تم اپنی کہو کہ تم کس طرف ہو تو اس نے جواب دیا کہ ہم تو تمہاری طرف ہیں تب میں نے کہا کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ میری طرف ہے تو مجھے اس کی ذات کی قسم ہے کہ اگر سارا جہان پھر جائے تو مجھے کچھ پرواہ نہیں پھر بعد اس کے میں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو اور آنکھ کھل گئی۔اور ساتھ الہام کے ذریعہ سے یہ جواب ملا کہ أَجِتَى مِنْ حَضْرَةِ الْوَتُرِ