جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 44
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے خطوط میں ذکر : 44 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلوط میں بھی حضرت طایفة المسیح الا وان (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی شاندار خدمات اور بلند منصب کا بار بار ذکر ملتا ہے۔چنانچہ حضور نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ا۔"مجھ کو آن مخدوم کے ہر ایک خط کے پہنچنے سے خوشی پہنچتی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں۔خالص دوستوں کا وجود کبریت احمر سے عزیز تر ہے۔اور آپ کے دین کے لئے جذ بہ اور ولولہ اور عالی ہمتی ایک فضل الہی ہے جس کو میں عظیم الشان فضل سمجھتا ہوں۔" مکتوبات احمد یہ جلد 5 نمبر 2 صفحہ 26) " سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس زمانہ میں یہ خلوص و محبت وصدق قدم براہ دین کسی دوسرے میں نہیں پایا اور آپ کی عالی ہمتی کو دیکھ کر خداوند کریم جل شانہ کے آگے خود منفعل ہوں۔۔۔۔۔جس قدر میری طبیعت آپ کی للہی خدمات سے شکر گزار ہے مجھے کہاں طاقت ہے کہ میں اس کو بیان کرسکوں۔" مکتوبات احمد یہ جلد 5 نمبر 2 صفحہ 45) "بلا شبہ کلام الہی سے محبت رکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کلمات طیبات سے عشق ہونا اور اہل اللہ کے ساتھ محب صافی کا تعلق حاصل ہونا یہ ایک ایسی بزرگ نعمت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص اور مخلص بندوں کو ملتی ہے۔۔۔۔۔۔۔فالحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ نعمت جو راس الخیرات ہے عطا فرمائی ہے۔۔۔۔۔۔۔جیسے آپ کے اخلاص نے بطور خارق عادت اس زمانہ کے ترقی کی ہے ویسا ہی جوش حُبّ اللہ کا آپ کے لئے اور آپ کے ساتھ بڑھتا گیا۔اور چونکہ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس درجہ اخلاص میں آپ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی شریک نہ ہواس لئے اکثر لوگوں کے دلوں پر جو دعوئی تعلق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ نے قبض وارد کئے اور آپ کے دل کو کھول دیا۔" (مکتوبات احمد یہ جلد 5 نمبر 2 صفحہ 72)