جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 452 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 452

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 452 ۱۳۱ مکرم جلال الدین شاد صاحب کچہری روڈ سیالکوٹ خاکسار حلفیہ بیان کرتا ہے کہ 9 جون 1982ء کو صبح شکر گڑھ میں بغرض سرکاری کام مصروف تھا اور خاکسار کو حضرت خلیفۃ اسیح الثالث (رحمہ اللہ ) کی وفات کی خبر نہیں ملی تھی۔خاکسار حسب معمول حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے نام دعا کے لئے خطوط لکھ رہا تھا تو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے نام لکھ رہا تھا۔سب سے پہلے خط حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے نام لکھا۔جب خط شروع کیا تو سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ صاحب کا نام پھر سیدی و مولائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا ت لکھا۔خاکسار کو یکا یک خیال آیا کہ یہ خاتو حضرت خلیلہ اسی کے نام لکھا جارہا ہے۔کیونکہ سیدی و مولائی کے الفاظ تو حضرت خلیفہ اسیج کے لئے لکھے جاتے ہیں۔خاکسار نے وہ کاغذ پھاڑ ڈالا تو پھر دوبارہ اس طرح خط شروع کیا۔سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کا نام لکھا پھر اس طرح سیدی ومولائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ کھا گیا خاکسار کوپھر خیال آیا کہ یہ خط تو حضرت صاحبزادہ کے نام لکھا جارہا ہے۔کیونکہ سیدی ومولائی الفاظ تو صرف حضرت خلیفہ اسیح کے نام لکھے جاتے ہیں۔خاکسار نے پھر یہ کاغذ پھاڑا اور اپنے آپ کو اچھی طرح جنجھوڑ کر تیسری مرتبہ خط حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کی خدمت میں حسب معمول لکھا۔بعد میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کے نام ایک خط لکھا۔چنانچہ شام واپس گھر آنے سے پتہ چلا کہ حضرت خلیفتہ امسح الثالث (رحمہ اللہ ) تو فوت ہو چکے ہیں۔میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ الفاظ سیدی و مولائی اسی لئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے نام کے ساتھ لکھے جا رہے تھے۔بہر حال اس وقت تک انتخاب نہیں ہوا تھا اس