جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 414
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے مکرم رحمت اللہ خان صاحب شاہد مربی سلسلہ لودھراں 414 حضرت خلیقه اصبح الثالث ( رحمہ اللہ) کی بیماری کے ایام میں خاکسار نے تین بجے رات کا الارم لگا رکھا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ پر جیسے شروع میں ربوہ کا پلیٹ فارم تھا۔ہم لوگ حضرت صاحب کا استقبال کرنے کے لئے کھڑے ہیں۔میں آخری سرے پر جو کہ مغرب کی طرف کا سرا ہے۔کھڑا ہوں۔شام یعنی مغرب کا وقت ہے۔میرے مشرقی پہلو میں مکرم مرزا حنیف احمد صاحب کھڑے ہیں۔میں اس وقت دوسری طرف دیکھ رہا تھا کہ مرزا حنیف احمد نے مجھے کہنی کے اشارہ سے اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ " ڈبے وچ چوہدری ظفر اللہ خان وی ہیں" اسی دوران گاڑی آگئی۔میں نے پہلے ڈبہ میں اپنی بیوی اور بچے سیف اللہ کو دیکھا۔ڈبہ روشن تھا۔پھر دوسرا ڈبہ گزرا۔پھر تیسرے ڈبہ کے دروازہ پر حضرت خلیفة امسیح الثانی نور اللہ مرقدہ بہت سے لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے۔حضرت صاحب نے گاڑی پہنی تھی۔پیر والہا تھا۔اتنے میں الارم کی آواز آئی۔اور میں بیدار ہوا۔میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ فوت ہو جائیں گے چوتھا خلیفہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا بیٹا ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ فتوحات کا دروازہ کھول دے گا۔تاریخ تحریر 12 جون 1982ء)