جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 409 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 409

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 409 اور سفید رنگ کی مرسڈیز میں بیٹھ کر اُن افسران کے ساتھ تشریف لے جاتے ہیں۔میں حضور سے پوچھتا ہوں حضور یہ آدمی کون ہے آپ فرماتے ہیں یہ ماڈل ٹاؤن لاہور والی بیت النور کے امیر جماعت ہیں اور بڑے ہشاش بشاش ہو کر تشریف لے جاتے ہیں۔اس کے بعد خاکسار جب صبح نماز کے لئے بیت الذکر گیا تو کافی دل اداس تھا۔دوسرے تیسرے دن حضور کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اطلاعات ملتی رہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا پوری ہوگئی۔اور جب میں حضور کی میت کے ساتھ قافلہ کے ہمراہ جہلم سے اپنے بھائی برادرم ضیاء الحق صاحب امیر جماعت احمدیہ کی کار میں ربوہ آرہا تھا تو میری حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے کھاریاں کے قریب ایک جگہ ملاقات ہوئی جہاں آپ اپنی کا رتبدیل فرمارہے تھے۔تو بالکل وہی لباس تھا اور وہی حلیہ تھا جو کہ میں نے خواب میں اس شخص کا دیکھا تھا۔پریشان اور تھکا سا چہرہ گدلے کپڑے اور وہی ٹوپی اور داڑھی۔بندہ نے اسی وقت خدا تعالیٰ کےاس اشارے کو سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اسی شخص کو آئندہ کے لئے خلافت کی ذمہ داریاں سونپے گا۔( تاریخ تحریر 15 جون 1982ء) مکرم خلیل احمد صاحب اونٹاریو کینیڈا حضرت طارید لمسیح الثالث ( محمد اللہ ) کے وصال سے دو ہفتہ قبل ایک خواب دیکھا کہ یہ عاجز سید نا حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ کے ساتھ ایک مکان میں ہے اور حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ خاکسار کے داہنے ہاتھ بیٹھے اور بہت ہی اچھا خوشگوار ماحول ہے۔حضور