جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 405 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 405

405 خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے وہ خاکسار اور چوہدری حمید اللہ صاحب ناظر ضیافت کھڑے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ دفتر وصیت کے نظام کا سارا ڈھانچہ تبدیل ہونے والا ہے اسی طرح مجلس کار پرداز کا۔اور اس سلسلہ میں میں بعد میں تفصیلاً عرض کروں گا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ عبدالرشید صاحب غنی ( قائد مال انصار اللہ مرکز یہ ) کھڑے ہیں۔اب اس وقت میں مکرم مبارک مصلح الدین احمد صاحب کو فراموش کر دیتا ہوں اور عبدالرشید صاحب غنی کو خلیفہ امسیح الرابع سمجھتا ہوں۔اور انہیں کہتا ہوں کہ آپ اب خلیفہ وقت ہیں۔ہمارے کیس کے بارے میں بھی غور فرمائیں (یعنی خاکسار اور مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب کی سزا کے بارے میں ) اس پر وہ ویسے ہی ہمدرد دانہ لہجے سے بات کرتے ہیں۔مگر کوئی معین جواب نہیں دیا۔اس کے بعد پھر مبارک مصلح الدین احمد صاحب ہی کو خلیفہ وقت خیال کرتا ہوں۔اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ دفتر انصار اللہ کے لان میں کھڑے ہیں اور احباب جماعت اپنی درخواستیں اور عرضیاں پیش کر رہے ہیں میں خیال کرتا ہوں کہ خلیفہ وقت کو تو قصر خلافت میں ہونا چاہئے۔یہ دفتر انصار اللہ کے پاس کیوں کھڑے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ ابھی نماز کا وقت آئے گا۔اور خلافت کے پہرہ دار اور موٹرمیں آئیں گی اور انہیں قصر خلافت پہنچائیں گی۔ہاں ایک امر میں بھول گیا ہوں۔اس سے قبل جب میں بحیثیت خلیفہ امسیح الرابع۔مبارک مصلح الدین احمد صاحب سے یا عبدالرشید صاحب غنی سے باتیں کر رہا ہوں تو میں یہ بھی کہتا ہوں کہ بہت اچھا ہوا کہ نسبتا ایک نوجوان فرد جماعت کا خلیفہ بنا ہے۔ایک لمبی مدت خلافت کے لئے انشاء اللہ ملے گی۔ایک بہت بڑی عمر کا شخص اگر خلیفہ بنتا تو پھر چند سالوں بعد فوت ہو جاتا یہ بہت اچھا ہوا کہ نوجوان شخص خلیفہ منتخب ہوا ہے۔دیکھی ہے۔اس کے ساتھ ہی میں نے فوراً اپنی اہلیہ کو آواز دے کر جگایا اور بتایا میں نے یہ رویا