جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 368 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 368

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے ۴۱ مکرم عنایت اللہ بھٹی صاحب چک نمبر 63\10 ضلع شیخوپورہ 368 عاجز حقیر حلفیہ بیان کرتا ہے کہ تقریباً زائد از تین سال ہوئے غالباً موجودہ قصر خلافت جو زیر تعمیر ہے ابھی تیار ہونا شروع نہیں ہوا تھا۔رات کو خواب میں دیکھا کہ زیر تعمیر قصر خلافت کی مانند بڑی خوبصورت عمارت ہے گویا موجودہ قصر خلافت ہے اور ہے بھی یہی موجودہ قصر خلافت جس میں ایک بڑا وسیع صحن ہے اس میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بہت سے علماء ہیں جو ایک جماعت کی شکل میں ہیں غالباً تین تین کی رو میں ایک لمبی قطار ہے۔سب کے ہاتھوں میں سیاہ رنگ کی لمبی بینیں ہیں جسے شاید باہر والے کلونت بولتے ہیں ( باجہ والی پارٹی جواکثر بیاہ شادی پر جاتی ہے ان میں ایک یا دو ماہر اسے بجاتے ہیں اور باقی پارٹی اس پر عمل کرتی ہے ) سب سے آگے جناب مولا نا عبدالمالک صاحب ہیں اور عجب ترنم اور مستی کیئے میں ساری جماعت بالخصوص جناب مولانا بجارہے ہیں اور جھوم جھوم کر چل رہے ہیں۔یہ پر کیف نظارہ دیکھ کر بندہ کسی سے سوال کرتا ہے ( یہ یاد نہیں کس سے سوال کیا ) کہ ایسا کیوں ہے۔جواب ملا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (رحمہ اللہ ) کی شادی ہے۔بندہ حیرانگی کے عالم میں کہتا ہے کہ جناب تو پہلے ہی شادی شدہ ہیں۔اس کے بعد کیا ہوا یا نہیں۔آنکھ کھل گئی۔یہ خواب بندہ ناچیز نے سب سے پہلے مکرم محترم جناب بزرگوار سید محمدمحسن شاہ صاحب انسپکٹر وقف جدید کور بوہ آنے پر سنایا اور تعبیر کی درخواست کی مگر جناب خاموش رہے۔پھر اپنے اہل وعیال کو بھی بتایا۔اس حقیر کے ذہن میں جو تعبیر آئی وہ یہی تھی جواب ظہور پذیر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہوئی۔تاریخ تحریر 06 جولائی 1982ء)