جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 357
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 357 مکرم رحمت اللہ آصف بنجر ا شیخوپورہ نے 1975ء میں بیعت کی تھی بعدازاں 1977ء میں وہ بس کے حادثہ میں وفات پاگئے تھے۔انہوں نے خود اپنی رو یا لکھ کر دی تھی جو میں نے محفوظ کر لی تھی۔اور وہ یوں ہے۔میرا ایک بھائی جو کہ کوہستان بس سروس میں ملازم ہے اور لاہور S۔M کی پوسٹ پر تعینات ہے۔اس سے راولپنڈی جانے کے لئے میں نے دوفری پاس مانگے جو کہ اس نے مجھے دے دیئے ہم دونوں دوستوں نے صبح ساڑھے چار بجے راولپنڈی جانا تھا۔لیکن جب میں رات سویا۔تو خواب میں دیکھا کہ میں راولپنڈی جا رہا ہوں لیکن اس خواب میں میرا دوست مجھ سے غائب ہے حالانکہ میں اور وہ اکٹھے سوار ہوئے تھے۔پھر میں خواب کے عالم میں ہی راولپنڈی پہنچ جاتا ہوں۔جب اڈے پر بس کھڑی ہوئی تو میں اُترا اور ایک سٹینڈ مینجر عبدالخالق سے ملاقات ہوگئی۔اس وقت اُس اڈے پر کافی تعداد میں کرسیاں ، میز ، دریاں اور قناتیں وغیرہ بکھری پڑی تھی۔میں نے عبدالخالق سے دریافت کیا کہ آج تمہارے اڈے پر کون سا فنکشن ہونے والا ہے۔تو اُس نے جواب دیا کہ یہاں پر ایسا تو کوئی فنکشن نہیں ہاں اللہ تعالیٰ کے ایک بزرگ اور نیک بندے جناب حضرت میاں طاہر احمد صاحب تشریف لا رہے ہیں۔لہذا ملک رحمت اللہ میرے ساتھ یہ کرسیاں اور میزیں سیدھی کروادیں اور اسٹیج بنادیں۔اور یوں سب کرسیاں قناتیں وغیرہ لگ گئی۔اور ان میزوں پر اچھے اچھے قالین بچھا دیئے گئے۔جن کے رنگ سبز اور گہرے سبز تھے لیکن ان کے اندر قدرے سرخ رنگ کی کرنیں نظر آتی تھیں۔لیکن پھر عالم خواب میں ایک اور منظر دیکھا کہ کرسیوں کے درمیان ایک سڑک تیار ہو چکی ہے اور اس سڑک کے آس پاس اور دونوں طرف بہت کثرت سے عوام کا ہجوم ہے۔میں نے دوبارہ میاں عبدالخالق سے دریافت کیا کہ وہ بزرگ کب تشریف لائیں گے تا کہ میں بھی زیارت کرسکوں۔تو جواب ملا کہ ابھی تشریف لاتے ہیں۔ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ میاں طاہر احمد صاحب