جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 325
خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 325 خیال کر کے شاید ان کی بیماری کی شدت کی وجہ سے میں طاہر کو اکیلا چھوڑ کر درمیان میں پھر لاہور نہ آجاؤں کسی قدر رقت کے ساتھ کہا کہ آپ میری خاطر امتحان کے آخر تک وہیں طاہر کے پاس (الفضل06 اپریل 1944ء) ٹھہریں۔"۔حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ ام طاہر ) کے جذبات واحساسات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع (رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔"امی۔۔۔۔۔اپنی اولاد کے لئے ہر قسم کی دینی ترقیات کے لئے بھی بہت دُعائیں کرتی تھیں اور خاص طور پر میرے لئے کیونکہ اُمی کے یہ الفاظ مجھے کبھی نہ بھولیں گے اور وہ وقت بھی کبھی نہ بھولے گا جب ایک دفعہ امی کی آنکھیں غم سے ڈبڈبائی ہوئی تھیں آنسو چھلکنے کو تیار تھے اور امی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ طاری! میں نے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ اے خدا! مجھے ایک ایسالڑ کا دے جو نیک اور صالح ہو اور حافظ قرآن ہو۔" پھر فرمایا: (الفضل 14 اپریل 1944ء) "اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جب کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا یا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کوئی واقعہ سامنے آتا تو امی کہہ اٹھتیں دیکھو طاری ! اللہ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتا ہے اور اس کی مثال میں مجھے دفعہ حضرت موسیٰ اور گڈریے کا قصہ سنا تیں اور کچھ اس انداز سے اور اس پیار بھرے لہجہ سے خدا کا ذکر کرتیں کہ ہر ہر لفظ گویا محبت کی کہانی ہوتا اور پھر اسی طرح خدا کے پاک کلام قرآن پاک سے بے انتہا محبت تھی۔سوائے اس کے کہ بیمار ہوں روزانہ صبح نماز سے فراغت حاصل کر کے قرآن کریم پڑھتی تھیں اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہتی تھیں۔جب میں پڑھتا تھا تو ساتھ ساتھ میری غلطیاں درست کرتی جاتیں اور مجھے نماز پڑھانے کا بھی ایسا شوق تھا کہ بچپن سے ہی کبھی پیار سے اور کبھی ڈانٹ کر مجھے نماز کے لئے ( بیت الذکر ) میں بھیج دیا کرتی تھیں اور