جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 324 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 324

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے دنیا میں گا ڑسکیں اور کفر کو نابود کرسکیں۔" 324 (الفضل 14 / مارچ 1944ء) روز مرہ دعاؤں کا التزام آپ نے کسی بھی اور وقت میں نہیں فرمایا اس خاص دعائیہ پروگرام کا پس منظر واضح ہے حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحب کی ذات کا اس پروگرام سے جو گہرا تعلق ہے وہ بھی کسی پر پوشیدہ نہیں اس سے یہ بات بدیہی طور پر سامنے آجاتی ہے کہ رخصت ہونے والی عظیم ہستی اور اس کے متبعین کو حضور کی خصوصی دعاؤں میں بالیقین نمایاں حصہ ملا ہوگا۔حضور چالیس دن لگا تار اسلام کی فتوحات کے لئے بارگاہ الہی میں دعا کرتے رہے۔حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کے 52 سالہ دور خلافت میں اس طرح 40 دن دعاؤں کا التزام کسی اور وقت ثابت نہیں۔اس کا پیش خیمہ حضرت سیدہ ام طاہر کی وفات تھی اور آپ نے چونکہ حضرت سیدہ ام طاہر کے مزار پر جانا ہی تھا اس لئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر حاضری دینی ضرور قرار دی اور یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان دعاؤں میں لازماً حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے لئے دُعا ہوتی ہوگی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت سیدہ ام طاہر کی وفات پر ایک مضمون الفضل میں لکھا جس میں آپ نے لکھا۔۲۔"جیسا کہ احباب کو علم ہے مرحومہ نے اپنے پیچھے تین لڑکیاں چھوڑی ہیں اور ایک لڑکا۔لڑکے کے اکیلا ہونے کا مرحومہ کو بہت احساس تھا اور وہ اس بات کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتیں رہتی تھیں کہ ان کا لڑکا جس کا نام طاہر احمد ہے دین دو دنیا کی اعلیٰ ترین ترقیاں حاصل کرے اور اس کی تربیت کا خاص خیال رکھتیں۔جب میں ان کی بیماری میں آخری دفعہ لا ہور گیا ( یعنی ان کی وفات والی دفعہ سے پہلے ) تو جب میں واپسی پر انہیں رخصت کہنے کے لئے ان کے کمرے میں گیا اور میں نے ان سے ذکر کیا کہ طاہر احمد کا امتحان ہونے والا ہے اس لئے میں واپس جاتا ہوں تو انہوں نے مجھے تاکید کے ساتھ کہا کہ ہاں آپ ضرور جائیں اور طاہر کا خیال رکھیں اور پھر یہ