جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 316
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 316 کے امرکور و کنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تو ڈر سے مجھے فرماتے ہیں: یا عَلِيُّ دَعْهُمْ وَأَنْصَارَ هُمُ وَزَرَاعَتَهُمُ یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیروؤں کی وہ جماعت جوان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔پھر بعد میں اس کے میری طبیعت الہام کی طرف متحد رہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے: ذَرُونِی اَقْتَلُ مُوسیٰ یعنی مجھ کو چھوڑ تا میں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کر دوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔فالحمد للہ علی ذالک" طرح ہوگا۔آئینہ کمالات اسلام از روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 219-218 حاشیہ) 21 دسمبر 1902ء کا الہام ہے کہ : تم پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جو مسیح کے زمانہ کی 19 جنوری 1903ء کے رویا میں حضور نے دیکھا کہ فرعون ایک لشکر کشیر کے ساتھ تعاقب میں ہے مگر آپ فرماتے ہیں کہ میرا رب میرے ساتھ ہے۔تمام خلفاء میں سے حضرت خلیفہ اسیح الرابع واحد خلیفہ تھے جن کو خلافت کی مہ داریاں ادا کرنے سے قانونی پابندیاں لگا کر روکنے کی کوشش کی گئی اور پھر ایک شخص کے قتل کا الزام لگا کر آپ کے قتل کی سازش تیار کی گئی اور تعاقب بھی کیا گیا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچالیا۔اور سمندر پارلے گیا۔( خطبہ 5 جولائی 1985ء)