جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 276
خلافت ثالثه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 276 کھڑے بیعت لے رہے ہیں۔ساری جماعت نے بیعت کر لی ہے اور حضور کے ساتھ سب کھڑے ہیں۔اسی اثناء میں میں دیکھتی ہوں کہ ایک بہت لمبا سا آدمی لوگوں کو ورغلا رہا ہے۔لیکن سوائے ایک یادو کے کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔پھر وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ " میری بیعت کرو لیکن میں نہیں مانتی۔پھر وہ مجھے مجبور کرتا ہے تو میں اس کے پاس سے بھاگ جاتی ہوں اور دل میں پکا ارادہ کرتی ہوں کہ یہ میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ یقتل ہی کرے گا۔میں قتل ہو جاؤں گی۔لیکن میاں ناصر احمد صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔۴۸ مکرم چوہدری غلام احمد صاحب ابن چوہدری عبد الحمید در ولیش دار الرحمت وسطی۔ربوہ خاکسار نے ایک خواب دیکھا تھا جسے میں حلفا لکھتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایک مکان میں چار پائی پر لیٹے ہوئے آرام فرمارہے ہیں اور میں اسی چارپائی پر پائنتی کی طرف بیٹھا پاؤں دبارہا ہوں۔اسی اثناء میں جب میں حضور کا بایاں پاؤں دبا رہا ہوں۔کوئی شخص کمرے میں داخل ہوا جیسے اسے میرے اس طرح آپ کے پاؤں دبانے اور میرے اس فعل پر کوئی حیرانی سی ہے۔میں نے اسی وقت بلند آواز سے اس شخص کے استعجاب اور حیرانی کو دور کرنے کی غرض سے کہا " میں مرزا ناصر احمد کے پاؤں نہیں خلیفہ مسیح کے پاؤں دبارہا ہوں۔" اس کے معا بعد میری آنکھ کھل گئی اور دیر تک طبیعت پر خواب کا اثر رہا۔