جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 249 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 249

خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے ا 249 میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث (جو اس وقت میاں ناصر احمد کہلاتے تھے ) ولایت سے تعلیم مکمل کر کے آرہے ہیں اور میں ان کو اسٹیشن پر ملنے گیا ہوں۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں خواب میں لا ہور میں ہی ہوں اور گھر سے اسٹیشن پر گیا ہوں لیکن جب اسٹیشن پر پہنچا تو نقشہ امرتسر اسٹیشن کا ہے۔پلیٹ فارم پر جالندھر سے گاڑی آکر جہاں اس کا انجن ٹھہرتا تھاوہاں اسٹیشن کے اندر جانے کا راستہ ہے۔وہاں سے اندر جا کر جب میں بائیں طرف پلیٹ فارم پر جانے کو مڑا تو میں نے دیکھا کہ اسٹیشن پر بہت بھیڑ ہے اور اس میں کوئی بھی مسافر نہیں بلکہ سب حضرت میاں صاحب کو ملنے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔لیکن وہ تمام کے تمام انبیاء کرام تھے۔بعض نبیوں کو تو میں نے پہچانا ہے یعنی حضرت ادریس ، حضرت یعقوب ،حضرت یوسف علیہم السلام وغیرہ اور بہت نبیوں کو نہیں جانتا۔لیکن میرے ذہن میں یہی ہے کہ یہ سب انبیاء کرام ہیں۔میرے اندر داخل ہو کر پلیٹ فارم کے قریب پہنچتے ہی گاڑی آگئی اور انجن وہیں آکر رک گیا۔پلیٹ فارم کے اختتام پر جو Slop یعنی ڈھلوان ہوتا ہے میں پلیٹ فارم پر جانے کے لئے اس پر چڑھنے لگا تو دیکھا کہ اس وقت حضرت آدم علیہ السلام میرے پیچھے سے جلدی جلدی چلتے ہوئے آئے اور میری داہنی طرف سے گذر کر آگے نکل گئے۔اُن کی بائیں بغل میں ایک چوکھٹا تھا جس کو شیشہ لگا ہوا تھا۔میں نے اس وقت یہی سمجھا کہ یہ ایڈریس ہے جو کہ میاں صاحب کو دینا ہے۔چونکہ گاڑی آگئی ہے اس لئے انہیں جلدی ہے۔جب وہ میرے پاس سے گذرنے لگے تو میں نے السلام علیکم کہا وہ جلدی میں تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے سر ہلایا اور پتہ نہیں کہ زبان سے جواب دیا یا نہیں۔بہر حال وہ تیزی سے پلیٹ فارم پر چلے گئے۔اس وقت میری زبان سے یہ نکلا۔" خدا میرے محبوب کو سلامت رکھے ہمارا خلیفہ ثالث بھی بڑی شان کا ہے۔"