جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 212
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 212 سے اب تک کوئی ایک بھی نیک نہیں ہوا۔پس یا تو آپ حضرت مرزا صاحب کو سچا نہ مانیں ( نعوذ باللہ ) اور اگر ان کو سچا مانتے ہیں تو آپ یہ ماننے پر مجبور ہیں ، کہ ان کی اولاد میں اکثریت نیکیوں کی ہے۔مگر مولوی صاحب کی جماعت میں تو کوئی ایک بھی حضور کی اولاد سے شامل نہیں ہے۔جس کا مطلب صاف ہے کہ اگر لاہوری پارٹی حق پر ہے تو حضرت صاحب کی اولاد میں سے آج تک کوئی ایک بھی نیک نہیں ہوا، اور ( نعوذ باللہ ) حضور کی دعا کا ادنی ترین اثر بھی موجود نہیں۔" اس احمدی دوست کی یہ بات بجلی کی لہر تھی جو تمام جسم میں دوڑ گئی۔خداوند کریم کی طرف سے پہلے ہی رہنمائی ہو چکی تھی۔انہیں سے بیعت کا خط لکھوایا۔اور آخر انہیں کے صاحبزادہ مولوی فضل الہی انوری ( جو آج کل بیرون پاکستان تبلیغ کے لئے جاچکے ہیں ) کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور مارچ 1948ء بمقام لاہور حضور کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔الحمد للہ علی ذالک" اس خط کو ملاحظہ کرنے کے بعد حضور نے فرمایا۔" جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے واقعی کوئی گمراہ نہیں کرسکتا۔" ☆۔۔۔۔۔( الفضل 06 ستمبر 1956ء) مکرمہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کا ایک خواب آپ نے حضرت خطری سی امانی نوراللہ مرقدہ کواپنے ایک کلو میں تحریر فرمایا۔" میں اس خط کے ذریعہ سے آپ کو اپنی ایک خواب لکھ رہی ہوں۔جو کہ میں