جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 211 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 211

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 211 دل میں خیال آیا، کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہولوں۔مگر اس خیال پر عمل نہ کیا۔آہستہ آہستہ آپ کا کنارہ بلند ہوتا گیا، اور میرا راستہ پست حتی کہ یہ بلندی و پستی دومنزلہ مکان کے برابر ہوگئی۔اس پر پشیمان ہو کر کہتا ہوں کہ کاش ان کے ساتھ ہو لیتا۔یہ خیال اور احساس ہوتے ہی دیکھا کہ شاندار سیٹرھیاں سامنے موجود ہیں۔جن پر خوشی خوشی چڑھ گیا۔چوٹی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزار مبارک دکھائی دیا۔وہاں دعا کی یا ( فاتحہ خوانی ) وہاں سے لوٹا تو راستہ میں ایک مدرس، ایم عطا محمد ملا جو، اب بھی منڈی پھلروں ٹیچر ہے۔"۔"مولانا محمد علی صاحب کے پیچھے نماز عشاء یا فجر ادا کر رہا ہوں۔آپ کا سینہ گویا بالکل سیدھا قبلہ کی طرف ہے۔مگر گردن پھیر کر شمال یا جنوب کو منہ کیا ہوا ہے، اور رکعتیں چار یا دو پڑھنے کی بجائے تین پڑھیں یعنی ایک رکعت کم یا بیش ، طبیعت بے حد بے کیف ہوئی۔پھر نظارہ بدلتا ہے اور بندہ حضور کے پیچھے پیچھے جارہا ہے اور یہ ساری داستان آپ سے عرض کرتا ہے جس کے جواب میں حضور نے ہلکی سے مسکراہٹ کے سوا کچھ جواب نہیں دیا۔ان واضح اشاروں اور نظاروں کے باوجود طبیعت کسی عقلی بنیاد پر دوٹوک فیصلہ کی خواہش مند رہی اور کافی عرصہ ایسی حالت میں رہی، کہ آخر ایک دن ایک سادہ سے احمدی دوست نے میرے خیالات سن کر مجھ سے کہا، کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صادق مان لینے کے بعد جماعت کا انتخاب اتنا آسان ہے، کہ دنیا میں ایسا کوئی آسان کام ممکن نہیں میں حیران ہوکر متوجہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جسمانی اولاد کا نام لے لے کر جتنی دعائیں ان کے نیک بننے کے لئے کی ہیں اگر کوئی ادنیٰ درجہ کا مومن بھی اتنی دعائیں کرے۔تو اس کا بھی درگاہ ایزدی سے ناکام لوٹنا ممکن نہیں پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، کہ زمانہ بھر کو نئے سرے سے مومن بنانے والے مامور من اللہ کی عاجزانہ، بیقرارانہ، بے شمار دعاؤں کے نتیجہ میں حضور کی اولاد میں