جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 185
خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 185 قبول کی اور بیعت کا خط حضور عالی مقام کو ارسال کر دیا۔اور حضور نے بیعت قبول فرمائی۔لیکن بعد ازاں سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔کہ دونوں فریقوں یعنی جماعت احمد یہ اور پیغامی جماعت میں حق پر کون ہے۔بندہ نے بہ عجز وانکساری والحاح وگر یہ زاری اور سچی تڑپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اے بچے ہادی اور گمراہوں کو سچا اور مستقیم راستہ دکھانے والے، بذریعہ رؤیا الہام یا القاء سے سچا فیصلہ فرما کہ فریقین میں سچا کون ہے اور حق پر کون ہے اور نہایت گریہ زاری کی۔کہ اے جی و قیوم خدا سچا الہام فرما جس طرح تو نے احمدیت قبول کرنے میں بذریعہ رویا ہدایت فرمائی ہے مجھ نا چیز پر رحم فرما۔کہ بغیر تیری رہنمائی کے میں اندھا ہوں۔الحمد للہ کہ اس رحیم وکریم ورؤف نے خاص رحم فرمایا اور خاکسار کو رؤیا اور الہام سے مطلع فرمایا کہ حق قادیان کے ساتھ ہے۔تفصیل یہ ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں وضو کر رہا ہوں اور کوئی مسجد ہے۔وقو کر کے فارغ ہوا۔تو معا حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل (اللہ آپ سے راضی ہو ) نظر آئے اور اچانک مولوی محمد علی صاحب مرحوم بھی نظر آئے۔جن کا لباس انگریزی قسم کا ہے اور ایک عمر زیب تن تھی۔اس وقت میں نے حضرت خلیفہ اسیح اول سے عرض کیا۔حضور مولوی محمد علی صاحب یہ کھڑے ہیں۔تو حضور نے فرمایا ان کو چھوڑ دو۔اور ساتھ ہی خواب میں الہام ہوا کہ "حق قادیان کے ساتھ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور نماز فجر ادا کی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہا س نے میری مضطر بانہ دعاسن کر جلدی ہی سچا فیصلہ صادر فرمایا۔میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خواب اور الہام مجھ کو ہوا ہے۔لعنة اللہ علی الکاذبین میں تمام اہل پیغام سے بصد درد، اور از راہ ہمدردی اور خیر خواہی عرض کرتا ہوں کہ وہ بھی زندہ خدا سے سچا فیصلہ طلب کریں۔لیکن شرط یہ ہے کہ دل میں کسی قسم کا بغض اور کینہ نہ رکھیں۔وہ ہمارا پیارا خدا ہے اور زندہ خدا ہے وہ ضرور اس بارے میں سچا فیصلہ فرمادے گا۔وما علينا (الفضل 16 ستمبر 1956ء) الا البلاغ۔"