جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 165
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے بٹالوی سے دوستانہ تعلقات تھے ) 165 1917ء میں بابو غلام قادر یا بابو عبدالرشید صاحب ہیڈ ڈرافٹ مین سنٹرل ورکشاپ ڈویژن امرتسر کے ساتھ قادیان گیا۔اور مسجد مبارک میں نماز کے بعد حضور کو دیکھا تو بعینہ خواب کا نظارہ آنکھوں کے سامنے آ گیا کیونکہ واقعی ایک نہایت حسین نوجوان جس کے سر پر سفید پگڑی بندھی تھی۔مشرق کی طرف منہ کر کے محراب میں بیٹھا تھا۔میں حضور اقدس کے چہرہ کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا تھا 1911ء کے خواب کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے میری بیقراری کی حالت اور گریہ زاری کو دیکھ کر مسجد میں میرے سر پر شفقت پدرانہ کی طرح ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔" مت ڈریا مت خوف کھا" اور مرحوم والد بزرگوار نے فرمایا تھا کہ " کوئی مرشد کامل ملے گا میں نے رہائش گاہ پر جا کر کہا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔دوستوں نے کہا کہ اور تحقیقات کر لیں میں نے کہا جو کرنی تھی کر لی۔اور اسی روز حضور کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔اس روز اکیلا ہی بیعت کرنے والا تھا الحمد للہ الحمد للہ ثم الحمد للہ سید نا اگر 1917ء میں حضور کی زیارت نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ نے بذریعہ خواب رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو میں عیسائی ہو گیا ہوتا۔سید نا! میرے الفاظ میں فرق ہو سکتا ہے۔واللہ خواب کے نظارہ میں فرق نہیں ہے اس وقت جبکہ میں عمر کے ساٹھویں سال میں سے گذر رہا ہوں آج سے 45 سال قبل کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے اسی طرح کا ہے۔(الفضل 02 نومبر 1951ء)