جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 129
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 129 چوہدری اللہ داد خان و دیگر احباب نے مجھ سے پوچھا کہ حضرت اقدس نے کیا فرمایا! تو میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ حضرت اقدس نے کیا فرمایا ہے؟ تو آپ نے چہرہ مبارک ہماری طرف کر کے فرمایا: بلبل در چمن آمد و گل قدر نه کرد " ترجمہ بلبل باغ میں آئی مگر پھولوں نے قدر نہ کی۔پھر آپ مکان سے نیچے تشریف لے آئے اور نیچے ایک بہت بڑا میدان ہے اور وہاں بہت سے لوگ جمع ہیں اور السلام علیکم السلام علیکم کہتے ہوئے تشریف لائے۔اور درمیان میں بیٹھ گئے۔لیکن مولوی محمد علی صاحب کی طرف آپ نے پشت مبارک کی ہوئی تھی، اور دو آدمی جہاں ہم لوگ مکان کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے آئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت اقدس کا حکم ہے کہ آپس میں کسی بات میں نفاق نہ ڈالو۔بعد ازاں مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے اور کچھ تقریر کرنی چاہی۔لیکن تمام لوگ جو وہاں موجود تھے سب کے سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔اور ایک زبان ہوکر سب نے یہی کہا کہ حضرت اقدس کی موجودگی میں آپ کا کوئی حق نہیں ہے کہ آپ کوئی تقریر کریں۔مولوی محمد علی صاحب بیٹھ گئے لیکن حضرت صاحب نے فرمایا! کہ تم لوگوں کو میں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ شور نہ کرنا سب بیٹھ جاؤ۔مولوی صاحب کو تقریر کر لینے دو۔ہم خود بعد میں اس کی تردید کر دیں گے۔لوگ بیٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔صبح بعد نماز فجر کے اس عاجز نے یہ اپنا خواب چوہدری اللہ داد خان نمبر دار ومستری شہاب الدین کو سنا دیا، اور بعد ازاں یہ خاکسار امرتسر اپنے ایک کام کے لئے چلا گیا اور وہاں جا کر قریباً چار بجے معلوم ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔میں نے یہ اپنا خواب میاں اللہ بخش صاحب کلاه فروش اور ایک اور صاحب کو جو وہاں موجود تھے سنایا۔اس کے ساتھ دو شخصوں کی مؤکد بہ قسم شہادت ہے کہ خواب پہلے سنایا۔" الفضل قادیان 28 / مارچ 1914ء)