رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 82

89 82 کٹا ہوا پڑا ہے ایک پاؤن میں نے اس پر رکھا ہوا ہے اور ایک پاؤں زمین پر ہے جس طرح کوئی شخص کسی دور کی چیز کو دیکھنا چاہے تو ایک پاؤں کسی اونچی چیز پر رکھ کر اونچا ہو کر دیکھتا ہے اسی طرح میری حالت ہے اور جسم میں عجیب چیستی ہے اور سکی پاتا ہوں جس طرح کہ غیر معمولی کامیابی کے وقت ہوا کرتا ہے اور چاروں طرف نگاہ ڈالتا ہوں کہ کیا کوئی جگہ ایسی ہے جس طرف مجھے توجہ کرنی چاہئے کہ اتنے میں ایک آواز آئی جو ایک ایسے شخص کے منہ سے نکل رہی ہے جو مجھے نظر نہیں آتا مگر میں اسے پاس ہی کھڑا ہوا سمجھتا ہوں اور یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یہ میری ہی روح ہے گویا میں اور وہ ایک ہی وجود ہیں اور وہ آواز کہتی ہے ولیم دی کنگر زیعنی ولیم فاتح۔ولیم ایک پر انا بادشاہ ہے جس نے انگلستان کو فتح کیا تھا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔جب میں نے دوستوں کو یہ خواب سنائی تو مفتی صاحب نے ولیم کے معنی لغت انگریزی سے دیکھے اور معلوم ہوا کہ اس کے معنے ہیں۔پختہ رائے والا۔پکے ارادے والا یا دوسرے لفظوں میں اولو العزم پس گویا ترجمہ یہ ہوا اولوا العزم فاتح۔ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغربی ممالک کے لئے ایک نیک ارادہ مقدر ہے اور یہ کہ غالبا وہ کسی میرے سفر کے ساتھ وابستہ ہے۔غالباً اس لئے کہ بعض دفعہ خواب میں جس شخص کو دیکھا جائے اس کے قائم مقام مراد ہوتے ہیں مگر باوجود ان خوابوں کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نتائج اس سفر کے معا ساتھ وابستہ ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ بیج سفر میں بویا جائے۔نتیجہ بعد میں نکلے۔الفضل 24 جون 1924 ء صفحہ 5۔نیز دیکھیں۔الفضل 4۔اکتوبر 1924 ء صفحہ 3 و 18 - اکتوبر 1924 ء صفحہ 8 و 8۔نومبر 1924ء صفحہ 8 و 18۔نومبر 1924ء صفحہ 8 و 4 - دسمبر 1924ء صفحہ 5 اور تفسیر کبیر جلد چهارم صفحه 301 141 $1924 فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے ہی بشارت دی تھی کہ میرے ولایت جانے سے اسلام کی فتوحات شروع ہوں گی۔بعض دوستوں نے کہا بھی کہ میرے وہاں جانے سے کیا ہوا حالا نکہ اول تو جماعت نے ہی مجھے وہاں بھیجا تھا۔میں خود اپنے ارادے سے وہاں نہیں گیا تھا بلکہ مجھے تو خواب میں بعض مصائب و مشکلات بھی دکھائے گئے جو میری غیر حاضری میں ہمارے خاندان میں پیدا