رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 71
71 کشمیر میں ہی کہا گیا تھا اور کچھ یہاں کہا ہے۔( نظم کا پہلا شعریہ ہے۔ناقل) طور پر جلوہ کناں ہے وہ ذرا دیکھو تو۔حسن کا باب کھلا ہے بخدا دیکھو تو الفضل 26 - دسمبر 1921ء 26 جنوری 1922ء صفحہ 1 17۔دسمبر 1921ء 122 فرمایا : میں نے غالبا آج ہی رات کو رویا دیکھی ہے میں نے حضرت صاحب کو رویا میں دیکھا۔چند پیغامی بھی گرد بیٹھے ہیں میں بھی مجلس میں تھا پیغامیوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں کا مسلمانوں کو قتل کرنا کیسا ہے۔میں ان کے اس سوال سے گھبرا گیا اس لئے میں نے سمجھا کہ انہوں نے اس طرح مجھ پر چوٹ کی ہے اور فتوئی اس طرح جیسے وہ ان تمام شرائط اور صورت مسئلہ کو پیش کر کے لے رہے ہیں ممکن ہے حضرت صاحب اس کے متعلق کوئی ایسی بات فرمائیں جس کو یہ لوگ ہمارے خلاف مشہور کرتے پھریں۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور حضرت صاحب کے قریب آیا اور اس وقت حضرت صاحب کی شکل بدل کر والدہ کی شکل ہو گئی اگر چہ شکل والدہ کی ہے مگر میں آپ کو حضرت صاحب ہی سمجھتا ہوں اور یہ بات عطوفت پر دلالت کرتی ہے) اور عرض کیا کہ سمالی لینڈ میں جس طرح جنگ حضور کے زمانہ میں ہوئی تھی اور احمدی گورنمنٹ کی فوج میں بھرتی ہو کر مسلمانوں سے لڑتے تھے۔حافظ صاحب سے خطاب کر کے فرمایا کہ اس وقت میں نے آپ کے بھائی ڈاکٹر رحمت علی صاحب ہی کا نام لیا اور عرض کیا کہ آپ نے گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی ہے اس کے مطابق ہی کام کرتا ہوں اس پر مسیح موعود نے فرمایا یہی ہمارا مسلک ہے "۔الفضل 16۔فروری 1922ء صفحہ 8 1922 1921 123 فرمایا : چودہ یا پندرہ سال کا عرصہ گزرا ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور ایک اور شخص ایک جگہ بیٹھے ہیں وہ تیسرا آدمی اب یاد نہیں رہا کہ چوہدری صاحب پر یا مجھ پر یا اور کسی تیسرے شخص پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ ورزش کیوں کرتا ہے اس طرح تو وقت ضائع ہوتا ہے۔اس پر میں اسے جواب دیتا ہوں کہ بعض خدا تعالیٰ کے