رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 608

608 پر اعتراض کیا اور بادشاہ نے اس کو روپیہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا تجھے وہم ہو گیا ہے اور تو پاگل ہے تو اس نے کہا نہیں میں نے یہ بات ایسے لوگوں سے سنی ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے یعنی مسلمانوں سے اور پھر انہوں نے بھی یہ بات اپنے ایک بہت بڑے بزرگ کے حوالہ سے کسی ہے اس لئے میں ضرور کامیاب ہوں گا اگر ناکام واپس آیا تو آپ کا اختیار ہے کہ جو چاہیں مجھے سزا دیں۔آخر ملکہ نے اپنے زیور بیچ کر اس کے لئے روپیہ مہیا کیا پادری اس وقت اتنے احمق تھے کہ ایک پادری نے دربار میں تقریر کی کہ یہ تو پاگل ہو گیا ہے اور عیسائیت کے خلاف تقریریں کرتا ہے اس وقت پادریوں کا خیال تھا کہ زمین چپٹی ہے گول نہیں اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر زمین گول ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی علاقہ ایسا بھی ہے جہاں انسانوں کا سر نیچے ہوتا ہے اور ٹانگیں اوپر اور بارش بھی اوپر سے نیچے نہیں ہوتی بلکہ نیچے سے اوپر ہوتی ہے اولے بھی نیچے سے اوپر گرتے ہے اور یہ ساری حماقت کی باتیں ہیں لیکن آخر وہی کامیاب ہوا۔غرض میں نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یا تو اتنے کمزور اور ناطاقت تھے کہ سارے عرب میں دس ایرانیوں یا دس رومیوں کا مقابلہ کرنے کی بھی طاقت نہیں تھی اور یا وہ دن آیا کہ وہ اسلام کے سیاہ جھنڈے ہاتھوں میں لے کر نکلے اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ابھی پندرہ سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ مسلمان ہندوستان اور چین تک جا پہنچے تم کو بھی چاہئے کہ چھوٹے چھوٹے سیاہ جھنڈے بنا لو اور وقف جدید کے جو مجاہد ہیں وہ دنیا میں پھیل جائیں اور اسلام کا جھنڈا ہر جگہ گاڑ دیں یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور گو یہ حکومت سیاسی نہیں ہو گی بلکہ دینی اور مذہبی ہوگی کیونکہ یہ لوگ دوسروں کو پڑھائیں گے اور علاج معالجہ کریں گے اور دین سکھائیں گے مگر پھر بھی ان کے ذریعہ اسلام کا ایک نشان قائم رہے گا۔الفضل 29۔اپریل 21958 644 30 مئی 1958ء فرمایا : رویا میں دیکھا کہ ایک جگہ بہت سے لوگ بیٹھے ہیں اور میں انہیں مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ مختلف مذاہب میں جو خدا تعالیٰ کا تصور پایا جاتا ہے وہ تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں