رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 607
607 642 اپریل 1958ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک مجلس ہے اور بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں میں ان میں بڑھتا چلا جاتا ہوں چلتے چلتے میں نے دیکھا کہ آگے قاضی ظہور الدین صاحب اکمل بیٹھے ہوئے ہیں اور میں ان کے پاس سے ہو کے گزرا ہوں میں نے اس کی یہ تشریح کی کہ الدِّينُ سے مراد اسلام ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : (20) پس اس لحاظ سے ظہور الدین اکمل کے یہ معنے ہوں گے کہ ظہور الاسلام اکمل یعنی خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ اسلام کو دنیا میں کامل طور پر غالب کرے۔یہ ایک بہت بڑی خوش خبری ہے الفضل 29 اپریل 1958ء صفحہ 2 643 اپریل 1958ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک مجلس میں بیٹھا تقریر کر رہا ہوں ذہن میں تو نہیں مگر وہ ایسا ہی مجمع ہے جیسے عید کا مجمع ہوتا ہے اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ دیکھو گو اس وقت تلوار کا جہاد نہیں ہے مگر تبلیغ کا جہاد ہے جو تلوار کے جہاد سے زیادہ آسان ہے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھو کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد ایسا اخلاص دکھایا کہ یا تو وہ اتنے بتوں کو پوجتے تھے کہ ہر دن میں ایک ایک بت آجاتا تھا اور یا پھر وہ توحید کا جھنڈا اٹھا کر دنیا میں نکل گئے اور اس کے کناروں تک پھیل گئے انہوں نے ایران فتح کیا، عرب فتح کیا، افغانستان فتح کیا اور پھر سندھ کے ذریعہ ہندوستان فتح کیا پھر مصر فتح کیا پھر تیونس اور مراکش فتح کیا پھر ہسپانیہ فتح کیا پھر تاریخوں سے ثابت ہے اور بعض آثار قدیمہ بھی ایسے ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پھر مسلمانوں میں سے بعض جہازوں پر بیٹھ کر امریکہ چلے گئے جہاں اب تک بھی ایک پرانی مسجد باقی ہے اور کولمبس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ میں نے جو امریکہ دریافت کیا ہے تو اس کی اصل تحریک تو مجھے ایک مسلمان بزرگ کی تحریر سے ہوئی ہے اس کا اشارہ حضرت محی الدین ابن عربی کی طرف تھا انہوں نے اپنی کتاب فتوحاتِ مکیّہ میں لکھا ہے کہ میں نے مغرب کی طرف دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ اس سمندر کے پرے ایک اور ملک بھی ہے چنانچہ جب لوگوں نے کولمبس