رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 590
590 کام میری مدد کے بغیر نہیں کرنا چاہتا اور وہ لازماً اس کی مدد کرے گا پھر دوسرا فقرہ ہے کہ اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں" اس کو پہلے فقرہ کے ساتھ ملا ئیں تو اس کے یہ معنے ہو گئے کہ ہم ہر کام میں دیکھ لیتے ہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے یا نہیں اور اگر ہر کام کے کرتے وقت انسان خدا تعالیٰ سے دعا کرے اور ہر کام کے متعلق یہ سوچے کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے یا نہیں تو سیدھی بات ہے کہ اس کی کامیابی اور اس کی دعاؤں کی قبولیت میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ جو شخص خدا تعالی کی رضا کے لئے کوئی کام کرے گا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد نہ کرے وہ تو خدا تعالیٰ کا کام ہو گیا بندے کا کام ہو تو خدا تعالیٰ کہہ بھی سکتا ہے کہ یہ تیرا کام ہے تو آپ کر مگر جب وہ کام خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کرنا چاہتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ یہ نہیں کہے گا کہ یہ تو تیرا کام ہے تو آپ کر بلکہ وہ کہے گا کہ یہ تو میرا کام ہے اسے میں ہی کروں گا۔الفضل 23۔نومبر1956ء صفحہ 4-3 نومبر 1956ء 628 فرمایا : میں نے خواب دیکھا تھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائکہ ربوہ کے اوپر سارے جو میں وہ آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں جو قرآن شریف میں یہودیوں اور منافقوں کے لئے آئی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ سے نکل جائیں گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑائی کریں گے لیکن قرآن کریم منافقوں سے فرماتا ہے کہ نہ تم یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ سے نکلو گے اور نہ ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑو گے یہ دونوں جھوٹے وعدے ہیں اور صرف یہودیوں کو انگیخت کرنے کے لئے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو پہلے تو پیغامیوں نے کہا ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اب وہ منافقوں کو ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا روپیہ اور ہماری تنظیم اور ہمارا اسٹیج سب کچھ تمہارے لئے وقف ہے گویا وہی کہہ رہے ہیں کہ جو خواب میں بتایا گیا تھا لیکن ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا کہ وہ اس مدد کے اعلان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان لوگوں سے بے تعلق ہو جائیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کسی بڑے آدمی کی طرف منسوب ہو نا ان