رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 578
478 612 16۔مارچ 1956ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک تعلیم یافتہ عورت کہہ رہی ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات کی بنیاد بد اخلاقی پر ہے گویا وہ اس بات پر طعن کرتی ہے کہ اسلام نے جو شادی بیاہ جائز رکھا ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں اس وقت یہ معلوم نہیں ہو تا کہ وہ عیسائیت کی تائید کر رہی ہے اور اس کی رہبانیت کی تعلیم کو ترجیح دیتی ہے یا محض عقلی طور پر وہ ان تعلقات پر اعتراض کرتی ہے میں نے اسے جواب میں کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مرد اور عورت کے تعلقات کی بنیاد بد اخلاقی پر رکھے جانے کا خیال اس لئے پیدا ہوا ہے کہ نر اور مادہ کے تعلقات صرف انسان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں چونکہ جانور کسی شریعت کے حامل نہیں بلکہ کسی بڑی اخلاقی تعلیم کے حامل بھی نہیں اس لئے ان کے سارے کام بہیمیت کے ماتحت ہوتے ہیں اور ان کو دیکھ کر بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ مرد اور عورت کے تعلقات کی جو اسلام نے اجازت دی ہے وہ بھی اسی قسم کی چیز ہے حالانکہ مرد و عورت کے تعلقات کی بنیاد بہیمیت پر نہیں بلکہ خالص اخلاق اور تقویٰ پر ہے جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْاَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء : (2) پس بیشک جانوروں کے نرومادہ بھی آپس میں ملتے ہیں اور مرد اور عورت بھی آپس میں ملتے ہیں مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ جانوروں کے نر و مادہ آپس میں ملتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں صرف جانور پیدا ہوتے ہیں کوئی اخلاقی یا روحانی تغیر دنیا میں رونما نہیں ہوتا۔لیکن جب مرد و عورت آپس میں ملتے ہیں تو ایسے انسان پیدا ہوتے ہیں جو تقویٰ اللہ کی بنیاد رکھنے والے ہوتے ہیں اور تقویٰ کی بنیاد بہیمیت پر نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی اور روحانی کیفیت پر ہے بہر حال یہ شبہ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ بظاہر جانور اور انسان اس فعل میں اشتراک رکھتے ہیں اور غلطی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جس طرح جانوروں کا یہ جذبہ بہیمیت پر مبنی ہے اسی طرح انسان بھی بہیمیت کے ماتحت ایسا کرتا ہے حالانکہ جانوروں کے آپس میں ملنے کے نتیجہ میں صرف بہیمیت پیدا ہوتی ہے اس طرح انسان