رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 556
556 کام بھی کرتے تھے وہ آپ کے اتباع کے لئے بھی جائز ہوتا ہے میں نے ابھی بات ختم ہی کی تھی کہ امتہ الحی کی والدہ صاحبہ اٹھ کر بیٹھ گئیں اور میں نے ان کو یہ بات بتائی انہوں نے میری تائید کی اور امتہ الحی مرحومہ کو سمجھانا شروع کیا۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔3 یہ خواب اتنا پیچیدہ ہے کہ اب تک اس کی تعبیر سمجھ میں نہیں آئی۔الفضل 12 اکتوبر 1954ء صفحہ 19۔ستمبر 1954ء 593 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک گلی میں سے گزر رہا ہوں جس کے پہلو میں ایک بڑے چبوترہ پر بہت سے لوگ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشاعرہ ہو رہا ہے اور صوبہ کا گورنر بھی اس میں شامل ہے مگر صوبہ میرے ذہن میں نہیں کہ کونسا ہے میرے ساتھ کوئی شخص جا رہا ہے میں نے اس کو کہا کہ یہ تو مشاعرہ کی طرز معلوم ہوتی ہے اس نے جواب میں کہا کہ یہاں تو کثرت سے مشاعرے ہوتے رہتے ہیں۔گلی کی نکڑ پر ایک گھر ہے جس میں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خاندان کے لوگ ہیں میں اس میں چلا گیا۔اپنے عزیزوں سے بات کر کے پھر میں باہر کی طرف نکلا تو میں نے دیکھا کہ ایک ہماری ننھیالی رشتہ دار میرے پیچھے چلی آرہی ہے ایک اونچی جگہ پر حضرت اماں جان) بیٹھی ہوئی ہیں مجھے یوں معلوم ہوا اس عورت نے آکر حضرت (اماں جان کی گردن زور سے پکڑلی ہے اور زور سے دبانے کی وجہ سے گلے میں کراہنے کی آواز آتی ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو میں نے دیکھا کہ اس نے آپ کی گردن پکڑی ہوئی ہے میں اس طرف گیا مجھے دیکھ کر اس نے گردن چھوڑ دی اور ایک طرف کو چل دی میں نے قدم تیز کر کے اس کو پکڑ لیا اور اس کی گردن کے آگے کی طرف ایک ہاتھ اور پیچھے کی طرف ایک ہاتھ رکھ کر زور سے دبانا شروع کیا اس پر اس نے کہا کہ آپ تو اتنے زور سے دبا رہے ہیں کہ میرا سانس رک جائے گا میں نے کہا تم نے حضرت اماں جان) کی گردن پکڑی تھی اگر ان کو کچھ ہوا تو میں تمہاری گردن توڑ دوں اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ محض ہتھیلیوں کے زور سے میں آدمی کی گردن توڑ سکتا ہوں اتنے میں معلوم ہوا کہ حضرت اماں جان کو کھانسی اٹھی اور آپ کی طبیعت ٹھیک ہو گئی جس پر میں نے اس عزیزہ کو چھوڑ دیا اور باہر