رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 555
555 نسبت کی وجہ سے اس کا نام اوم پرکاش بتایا گیا ہو یا ممکن ہے اس کے یا اس کی نسل کے کسی نیک اور روحانی تغیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہو (اس کے بعد میاں بشیر احمد صاحب کو قادیان سے اطلاع ملی کہ لالہ شرم پت کے ایک اور بیٹے کی نسل سے ایک ہوتا ہے جس کا نام اوم پرکاش ہے اور وہ بھی دہلی میں نوکر ہے پس غالبا اس کی کسی جسمانی یا روحانی کامیابی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے) پرانے زمانہ کے لکھے ہوئے جو تین قرآن دکھائے گئے ان سے اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے بھولے ہوئے علوم مجھے عطا کرے گا اور جماعت کو بھی برکات نصیب ہوں گی۔الفضل 12۔اکتوبر 1954 ء صفحہ 3 13/12۔ستمبر 1954ء 592 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں ہوں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عید کی رات ہے پہلا حصہ رات کا ہے یا پچھلا حصہ ہے۔یقین نہیں کر سکتا مگر پورا اندھیرا نہیں ہے میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ گھر کے اس حصہ میں جہاں پہلے ام طاہر مرحومہ رہا کرتی تھیں اور پھر مریم صدیقہ رہتی تھیں، امتہ الحی مرحومہ رہتی ہیں۔میں گھر کے کئی حصوں سے گزرتے ہوئے اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک چارپائی پر لیٹی ہوئی ہیں اور ایک پتلی دولائی اوڑھی ہوئی ہے نیچے فرش پر سرہانے کی طرف چارپائی کے پہلو میں ایک عورت چادر اوڑھ کے لیٹی ہوئی ہے اور عید کا لباس اس نے پہنا ہوا ہے سبز مرینہ کا تنگ پاجامہ ہے اور اس کے پائنچے پر سنہری گوٹ لگی ہوئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ امتہ الٹی مرحومہ کی والدہ اور حضرت خلیفہ اول کی اہلیہ ہیں میں ان کے پاؤں کی طرف سے ہو کر امتہ الحی کے پاس گیا اور چار پائی پر بیٹھ گیا اور انہیں پیار کرنا چاہا لیکن انہوں نے ہاتھ سے مجھے پرے کرنے کی کوشش کی اور کہا ایسا نہ کریں میں نے اس پر کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اپنی بیویوں کو پیار کیا کرتے تھے مطلب یہ تھا کہ جو ان کے لئے جائز تھا وہ ہمارے لئے سنت ہے اس پر انہوں نے کہا کہ ان کی اور بات تھی ان کے ساتھ وعدے تھے۔میں نے جوابا کہا کہ کیا میرے متعلق کوئی وعدے نہیں۔یہ بات اشاروں اشاروں میں ہی ہوئی۔مطلب یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وعدے ان کے اتباع کی طرف بھی منتقل ہو جاتے ہیں اور آپ جو