رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 545
545 585 مئی 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ ہوں اور مولوی محمد علی صاحب کے گھر سے وہاں آئے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ انجمن نے (انجمن اشاعت اسلام) ایک ریزولیوشن کر کے مجھے بھیجوایا ہے کیا ان کو ایسا حق حاصل ہے۔میں نے کہا یہ تو قانونی سوال ہے اور میں قانون سے ناواقف ہوں اس لئے میں تو جواب نہیں دے سکتا۔اس وقت خواجہ نذیر احمد صاحب خلف خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم بھی میرے پاس کھڑے ہیں انہوں نے موصوفہ کی بات سن کر فوراً اپنے کوٹ پر ہاتھ مارا اور اس میں سے کاغذ کے ملنے کی آواز آئی اس وقت میں نے سوچا کہ شاید ان کے پاس بھی اس ریزولیوشن کی نقل آئی ہے اور انہوں نے تسلی کرنی چاہی کہ آیا وہ کاغذ محفوظ ہے یا نہیں۔الفضل 26۔ستمبر 1954ء صفحہ 3 غالنا جولائی 1954ء 586 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوں اور درد صاحب میرے پاس بیٹھے ہیں سامنے سے ایک فوجی افسر گزرا جس کا جسم نہایت سڈول اور خوبصورت تھا اور بہت چست معلوم ہوتا تھا اس کے پیچھے پیچھے اس کا اردلی تھا جس وقت وہ فوجی افسر ہمارے سامنے آیا تو اس نے منہ ہماری طرف کر کے فوجی طرز پر سلام کیا اس سلام میں بھی خاص اخلاص اور ادا پائی جاتی تھی میں نے درد صاحب سے پوچھا یہ کون ہے آپ جانتے ہیں تو درد صاحب نے کہا آپ ان کو نہیں جانتے یہ بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی کے پوتے ہیں۔میں نے کہا کہ کیا وہ غیر احمدی نہیں! انہوں نے کہا نہیں وہ تو بڑا مخلص احمدی ہے پشاور یا کسی اور جگہ کا نام لیا کہ وہاں خدام الاحمدیہ کا قائد رہا ہے پھر انہوں نے کہا کہ وہ تو مذاق سے مجھے کہا کرتا ہے کہ تم پرانے لوگ ربوہ سے نکلو کہ ہم نوجوان وہاں آکر رہیں گے اور اسے احمدیت کا نمونہ بنائیں گے۔نوٹ۔جہاں تک مجھے علم ہے بھائی عبدالرحیم صاحب کا ایک بیٹا ہے جو فوج میں ملازم ہے اور ڈاکٹر ہے مگر جوان پوتے کا مجھے علم نہیں شاید ساری خواب تعبیر طلب ہو یا آئندہ کوئی مخلص پوتا بھائی جی کے پیدا ہونے والا ہے۔الفضل 5۔اکتوبر 1954ء صفحہ 3