رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 542

542 واقعہ پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ میری وہ خواب پوری ہو گئی ہے۔دوسرے دن چوہدری صاحب کی تار آگئی کہ آپ کی رؤیا پوری ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے اس حادثہ سے بچالیا ہے۔المصلح 18۔فروری 1954 ء صفحہ 4 - 3 581 دسمبر 1953 ء یا جنوری 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب آئے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ اگلے جہاں میں مجھے فرصت ملی اور میں نے آپ کی کتاب ”دعوۃ الا میر" پڑھی ہے اور حوالوں کا مقابلہ کیا ہے میں نے کئی بار اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے اور نئے نئے مطالب مجھ پر کھلے ہیں۔الفضل 26 ستمبر 2,1954 غالبا فروری 1954ء 582 فرمایا : دیکھا کہ ایک مکان میں ہوں جو مقبرہ بہشتی کی طرف ہے اس کے باہر ایک وسیع مسجد ہے۔میں گھر سے نکلا اور ارادہ کیا کہ قادیان میں مسجد مبارک کی طرف جاؤں مسجد کے سامنے وسیع صحن دیکھا جس کے آگے کچھ سایہ دار درخت بھی ہیں ایک شخص چست لباس میں کھڑا ہے گویا پہرے دار ہے میں اس کے پاس سے ہو کر مقبرہ بہشتی اور مسجد مبارک کے درمیان کی سڑک پر چل پڑا میرے ادھر جانے پر وہ شخص جو پہرے دار کے طور پر کھڑا ہے ساتھ چل پڑا میں نے اس کے پاؤں کی آہٹ سن کر خوشی محسوس کی کہ اس نے خطرہ کا احساس کیا ہے اور حفاظت کے لئے ساتھ چل پڑا ہے حالانکہ میں نے اسے کچھ نہیں کہا۔جب میں چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچا جہاں دار الضعفاء تھا اور جس کے آگے پل بنا ہوا تھا تو میرے پیچھے سے آکر ایک شخص نے حملہ کرنا چاہا مجھے آہٹ آگئی اور میں نے مڑکر اس پر سوئی کا جو میرے ہاتھ میں تھی وار کیا۔اتنے میں ایک دوسرا آدمی آگیا وہ بھی حملہ کرنا چاہتا ہے میں نے اس پر بھی دار کیا اور میں نے دیکھا کہ وہ لولا لنگڑا ہے یا یہ کہ میرے وار پر لولا لنگڑا ہو گیا ہے بہر حال وار سے بچنے کے لئے وہ عجیب طرح اپنے مڑے ہوئے ہاتھ اور اپنا بد نما جسم مروڑ تا ہے جو مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے اتنے میں وہ پہرے دار یا کوئی اور احمدی آگیا اور ان حملہ آوروں کو