رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 534
534 574 جون 1953 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک جگہ پر میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور میرا لڑ کا مبارک احمد ہے کچھ اور لوگ بھی ہیں چوہدری صاحب نے ذکر کیا کہ سنا ہے ہندوستان میں جوٹ بہت پیدا ہونے لگ گئی ہے اور قیمتیں کم ہیں کچھ تجربتا ادھر منگوا کر دیکھنی چاہئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا مبارک احمد ادھر ہندوستان میں رہ رہا ہے لیکن پاسپورٹ پر۔باشندہ پاکستان کا ہی ہے لیکن میں نے چوہدری صاحب سے کہا ہے کہ سنا ہے کہ چار روپے من وہاں کچی جوٹ آتی ہے یہ خواب کی بات ہے ورنہ نہ مجھے جوٹ کی قیمت معلوم ہے اور نہ فروخت کا طریق معلوم ہے) اور اس پر دو روپے کے قریب کرایہ ریل وغیرہ خرچ آکر چھ روپے من ہو جاتی ہے اور آٹھ روپے پر بکتی ہے اس پر مبارک احمد نے کہا میری پاسپورٹ کی مدت تو ختم ہو رہی ہے اور شاید مجھے وہاں سے آنا پڑے گا۔میں کوشش کروں گا کہ اور مہلت مل جائے اور میں سودا کر سکوں اس پر آنکھ کھل گئی۔اس خواب کے دیکھنے کے تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ ایک مجلس ہے اس میں چند دوست بیٹھے ہیں مگر نام لکھنا ٹھیک نہیں میں نے ان کو دیکھ کر ادھر کا رخ کیا ایک صاحب نے ہاتھ میں کوئی چیز پکڑی ہوئی ہے اور انہوں نے دوسرے صاحب کو اشارہ کیا ہے جیسے کوئی یہ کہتا ہے کہ آپ کام جاری رکھیں اس دوسرے شخص کے ہاتھ میں کوئی موٹی سی چیز پکڑی ہوئی ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تاش کی گڑی ہے انہوں نے اس میں سے پتے نکال کر چار پانچ آدمیوں کے آگے ڈالنے شروع کئے ہیں۔حیران ہو تا ہوں کہ انہوں نے یہ کام شروع کیا ہے اس پر میری آنکھ کھل گئی۔اس میں ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے درمیان مقابلہ کی طرف اشارہ تھا۔بعض دفعہ ظاہر مکروہ دکھایا جاتا ہے مگر حقیقت اچھی ہوتی ہے۔المصلح 27۔جون 1953ء صفحہ 4 جون 1953ء 575 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کے لئے ایک مچان بنایا گیا ہے اس پر ہلکے آسمانی