رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 525
525 نہایت غصہ سے اسے کہا کہ تم عجیب آدمی ہو ظفر اللہ خاں پاکستان حکومت کے نوکر ہیں اور اس کے فوائد کو مد نظر رکھنا ان کا فرض منصبی ہے وہ اس کے کام کو چھوڑ کر تمہاری طرف توجہ کس طرح کر سکتے ہیں اور فرض کرو کہ وہ پاکستان کے نوکر نہ بھی ہوتے تب بھی پاکستان مجموعہ افراد اور قوم اور ملک کا نام ہے اور تم ایک شخص ہو ایک شخص خواہ کتنا بھی اہم ہو اس کے لئے قومی ضرورتوں کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے یہ تمہارا اسوال بالکل غلط ہے اور میں ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں اس پر وہ مایوس ہو کے اٹھا اس کے اٹھتے ہی ایک گھو ڑالا یا گیا جو نہایت خوبصورت اور بے عیب گھوڑا معلوم ہوتا ہے وہ لڑکا اس کے اوپر چڑھ گیا اور گھوڑے پر چڑھتے ہی اس کا جسم بہت بڑا ہو گیا سینہ بڑا چوڑا ہو گیا پیٹ بڑا پھیل گیا غرض ایک غیر معمولی قسم کا جسیم آدمی معلوم ہونے لگا گھوڑے پر بیٹھنے کے بعد بھی اس نے وہی بات پھر دہرانی چاہی اس پر میں نے اسے کہا کہ تمہاری سمجھ کم ہے اگر تمہیں سمجھ ہوتی تو کم سے کم تم اتنا خیال کرتے کہ خلیفہ وقت کے سامنے تم گھوڑے پر سوار ہو کر باتیں کر رہے ہو اس وقت پھر میرے دل میں خیال آیا کہ اس میں تربیت کی کمی ہے ورنہ یہ لڑکا بہت سلیم الفطرت ہے کاش کہ اس کی اصلاح ہو جائے مجھے پوری طرح یاد تو نہیں رہا لیکن غالبا جس وقت میں نے آخری بات کہی ہے وہ گھوڑے سے اتر آیا اور اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 18۔نومبر 1952ء صفحہ 3-2 563 نومبر 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک پہاڑی ہے مگر اس کے اوپر کوئی سبزہ اور گھاس نہیں لیکن وہ جگہ خنک اور سرد ہے میرے دل میں خیال آیا کہ یہ جگہ لے کر ہم احمدی آبادی بسا دیں تو پہاڑ پر آنے جانے میں جو وقت ہوتی ہے وہ دور ہو جائے میری تحریک پر بعض لوگوں نے اس جگہ پر زمینیں لیں اور میں ذہن میں یہ سوچتا ہوں کہ اس جگہ پر بعض ٹکڑے صاف کر کے ان میں باہر سے مٹی لا کر ڈلوا دی جائے اور اس جگہ پر درخت اگا دیئے جائیں اور سبزہ اگا دیا جائے تو یہ جگہ خوشنما ہو جائے گی یہ خیال آتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ جگہوں پر خدا نے ایسا انتظام کر بھی دیا ہے میں اس جگہ سے ہٹ کر ذرا پیچھے آیا تو ایک بہت بڑا مکان بنتے میں نے دیکھا جو کسی احمدی کا ہے ایسا خیال پڑتا ہے کہ وہ چوہدری غلام مرتضی صاحب سیالکوٹی کا ہے جو ملتان میں رہتے ہیں