رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 513

513 لباس پہنے ہوئے کھانا پکانے میں لگی ہوئی ہیں اور حضرت اماں جان ) ایسی عمر میں جو تیس چوبیس سال کی معلوم ہوتی ہے ان کی نگرانی کر رہی ہیں جسم جیسے جوانی میں ہوتا ہے مضبوط ہے لیکن نہ دہلانہ موٹا۔ہاتھ میں انہوں نے ایک بڑی سی لمبی کفگیر پکڑی ہوئی ہے جس سے وہ مختلف عورتوں کے پکے ہوئے کھانوں کو دیکھتی ہیں کہ وہ ٹھیک پک گئے ہیں یا نہیں ، مجھے دیکھ کر وہ کمرے سے باہر آئیں ہاتھ میں کفگیر پکڑی ہوئی ہے مجھے دیکھ کر مسکرائیں اور میری طرف دیکھتی رہیں لیکن نہ مجھے آگے بڑھنے کی جرأت ہوئی اور نہ وہ آگے آئیں اتنے میں آنکھ کھل گئی۔اس رویا میں غالباً آپ کے اخروی مدارج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے خاندان کی پرورش اور نگرانی کا ذمہ دار بنایا ہے۔الفضل 9۔جولائی 1952ء صفحہ 4 552 جون 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ عصر کا وقت ہے یکدم مجھے خیال آیا کہ مدینہ ہو آئیں پھر خیال آیا کہ حج بھی کرتے آئیں کیا ہوا دو ہر احج ہو جائے گا۔اس خیال کے آنے پر میں نے ام ناصر سے کہا کہ میرا سامان تیار کرو اور ساتھ جانے کے لئے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب عزیز مرزا حفیظ احمدہ جو میرا بیٹا ہے اور کسی اور بیٹے کو تیار ہونے کو کہا ہے۔پھر میں نے کہا کہ ناصرہ بیگم جو میری بیٹی ہے اسے بھی بلو الو کہ وہ بھی جاتے ہوئے مجھے مل لے۔اسباب تیار ہو رہا ہے اور سورج ایک نیزہ اوپر نظر آتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے ابھی روانہ ہونا ہے کہ میری آنکھ کھل گئی۔آنکھ کھلتے وقت میری زبان پر یہ آیت جاری تھی۔فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدة : 118) مجھے یاد نہیں کہ اس سے پہلے کبھی مجھے اپنی وفات کے بارہ میں اشارہ ہوا ہو یہ الفاظ یا تو میری عمر کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا پھر زیارت مدینہ کے خیال کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی طرف که فَا قُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ الفضل 9 جولائی 1952ء صفحہ 5 1211۔جون 1952ء 553 فرمایا : ایک رات خاص طور پر دعاؤں کی آئی۔رمضان کے درمیانی عشرہ کی یہ کوئی رات