رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 500

500 کرتے ہیں اسی دوران میری رائے بھی اس نوجوان کے ساتھ مل جاتی ہے اس پر میں نے آپ سے کہا کہ آپ نے یہ فقرہ کہا تھا کہ شاید مشتبہ ہے تو جب خود آپ کو یہ یقین نہیں کہ اشتباہ یقینی ہے بلکہ خود اشتباه جو کہ قطعی چیز نہیں اس میں بھی تردد ہے تو پھر تو میرے نزدیک ایسا قدم اٹھانا درست نہیں ہو سکتا اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ” بہت اچھا اسی طرح سہی۔الفضل 30۔نومبر1 195 ء صفحہ 2 538 نومبر 1951ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا جیسے میں کھڑا ہوں اور سامنے راجہ علی محمد صاحب بیٹھے ہیں۔اس کی دونوں قسم کی تعبیریں ہو سکتی ہیں شر کے معاملہ کے لئے بھی انسان پیش ہوتا ہے اور خیر کے معاملہ کے لئے بھی انسان پیش ہوتا ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ الفضل 30 نومبر 1951 صفحه 2 539 نومبر 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح ناصری بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے کچھ ان کے شاگرد بھی ہیں میں اس مجلس میں بیٹھا ہوں پولوس کا ذکر اس مجلس میں شروع ہو گیا ہے۔حضرت مسیح نے پولوس کے متعلق کچھ اختلاف یا ناراضگی کے الفاظ کے ہیں لیکن وہ لفظ زیادہ سخت نہیں ہیں اس پر میری آنکھ کھل گئی۔میں اس خواب سے سمجھتا ہوں کہ گو پولوس کا کچھ قصور ضرور ہے بعض غلطیاں اس سے ایسی ہوئی ہیں جن سے عیسائیت میں بگاڑ پیدا ہوا ہے لیکن شرک صریح اور ایسی ہی بعض اور خطرناک غلطیاں جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں در حقیقت وہ لوگوں نے بعد میں بنائی ہیں اور پولوس کی طرف منسوب کر دی ہیں ورنہ وہ اتنا برا نہیں تھا جتنا کہ اس تعلیم کو اس کی طرف منسوب کر کے وہ برا بن جاتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کو غالبا یہ دوسری بار ہے جو میں نے دیکھا ہے پہلی بار ایک بچہ کی شکل میں دیکھا تھا۔الفضل 30۔نومبر 1951ء صفحہ 2