رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 497
497 ان کو دکھ پہنچایا کرتا تھا اور تو یہ دعویٰ کیا کرتا تھا کہ وہ لوگ مغلوب ہو جائیں گے اور ان کی شوکت ٹوٹ جائے گی پس اے کذاب اب بتا کہ وہ تیری پیشگوئی کہاں گئی گویا آخر میں تو تجھ کو ذلت نصیب ہوئی اور تو ہی گھسیٹا گیا اور تو ہی کھینچا گیا اور تیرے ہی ماتھے کے بال پکڑے گئے۔اس وقت میں نے دیکھا کہ جب میں گھسیٹتا ہوں تو آہستہ آہستہ اس کی ٹانگیں گھس کر مٹتی چلی جاتی ہیں اور صرف سرین تک اس کا جسم باقی رہ گیا ہے اور ایک گڑیا کی سی شکل ہو گئی ہے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔مولوی سرور شاہ صاحب کو تو فوت ہوئے چار سال ہو چکے ہیں مگر سرور کے معنی سردار کے ہوتے ہیں اس لئے بالکل ممکن ہے کہ اس رویا میں میری طرف اشارہ ہو کہ جماعت کا امام ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اشارہ اس سے پاکستان کے حکام کی طرف ہو جن کو بعض اندرونی و بیرونی دشمن ذلیل کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے گا اور ان کو بچائے گا۔یہ خیال مجھے زیادہ تر اس لئے آیا کہ مولوی سرور شاہ صاحب ہزارہ کے رہنے والے تھے اور نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب کا قاتل بھی ان ایام میں ہزارہ میں بس گیا تھا اس کی مناسبت کی وجہ سے خیال آتا ہے کہ شاید اس میں اشارہ ان دشمنان پاکستان کی طرف ہو جو یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پاکستان ذلیل ہو جائے اور قسم قسم کی خفیہ کارروائیاں کر کے اس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔الفضل 30۔اکتوبر 1951ء صفحہ 6 21 اکتوبر 1951ء 535 فرمایا : میں نے آج (21۔اکتوبر) کو رویا میں دیکھا کہ ایک پہاڑی رستہ پر سے میں گزر رہا ہوں اور کچھ اور لوگ بھی جو میرے ساتھی معلوم نہیں ہوتے ہیں مسافر معلوم ہوتے ہیں وہ بھی گزر رہے ہیں۔میرے ساتھ اپنے بھی کچھ آدمی ہیں چلتے چلتے سڑک ایک اونچی چوٹی کے اوپر سے گزری اور پھر نیچے کی طرف جھکی اور پہلو کی طرف مڑگئی وہاں میں نے دیکھا کہ ایک ٹنل بنی ہوئی ہے اور لوگ اس ٹنل کے نیچے سے گزرتے ہیں لیکن وہ ٹنل بہت ہی بوسیدہ ہے۔اس میں سے پانی ٹپکتا ہے اور اینٹیں گرتی ہیں میں اس کو دیکھ کر بہت گھبرایا اور میں نے کہا کہ میں تو اس ٹنل میں سے نہیں جاتا اور میں واپس لوٹا۔تھوڑی دور واپس آنے کے بعد میں نے