رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 487

487 دروازہ ہے وہ گلی یا بازار میں ذرا اونچا کر کے لگایا گیا ہے وہ قریباً تین فٹ کے قریب بازار یا گلی سے اونچا ہے۔خواب میں مجھے یہ احساس ہے کہ میرے گھٹنے میں تکلیف ہو رہی ہے میں نے سہارا لے کر پتھر پر پاؤں رکھا ہے آگے ایک کھلا میدان ہے اس کھلے میدان میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہیں (آپ کی زیارت ایک عرصہ کے بعد اس خواب کے ذریعہ ہوئی) آپ نے داڑھی پر خضاب لگایا ہوا ہے وہی خضاب جو آپ سے منقول ہے اور میں بھی وہی لگا تا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس میں مہندی ذرا زیادہ ملایا کرتے تھے لیکن میں ذرا کم مہندی ملاتا ہوں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بالوں پر ذرا سرخی رہ جاتی ہے ایسی سرخی جیسے وفات کے قریب جب آپ خضاب لگاتے تھے تو بالوں پر دکھائی دیتی تھی۔آپ کا چہرہ روشن تھا۔آپ پگڑی پہنے ہوئے تھے میں نے السلام علیکم کہا آپ نے جواب دیا اور و علیکم السلام فرمایا مجھے خیال آیا کہ ذرا آگے جاؤں وہاں اور لوگ بھی بیٹھے ہیں۔میں ایک دو قدم ہی آگے چلا تھا کہ میں نے دیکھا وہاں لوہے کا ایک پلنگ رکھا ہوا ہے یہ پلنگ اسی طرف پڑا ہے جس طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چار پائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔یہ پلنگ عام پلنگوں سے اونچا ہے اور چوڑا بھی ہے اور تار کے ساتھ بنا ہوا ہے اس پلنگ پر میاں جان محمد صاحب جو قادیان کے رہنے والے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا کام کرنے والے حجام خاندان میں سے ہیں اور قادیان میں پوسٹ مینی کا کام کرتے ہیں تشہد کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہیں ان کے بیٹے تجارت کا کام کرتے ہیں اور ان کے بھتیجے میاں محمد عبد اللہ صاحب ربوہ میں حجام کا کام کرتے ہیں) باوجود اس کے کہ میاں جان محمد صاحب تشہد کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہیں مجھے خیال آتا ہے کہ وہ بیمار ہیں اس لئے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔میرے پاس سے گزرتے ہوئے انہوں نے سلام پھیرا اور میں آگے چلا گیا میرا خیال ہے کہ میں آگے جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ کچھ فاصلہ پر ہے۔وہ فاصلہ میلوں کا نہیں وہ فاصلہ فرلانگوں کا نہیں بلکہ یہی ہیں تمیں گز کا ہے میں آگے چلا تو میں نے دیکھا کہ پاس ہی ایک کھلی جگہ ہے اور اس میں کرسیاں رکھی ہوئی ہیں ان کرسیوں پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنے کے لئے آئے ہیں۔میرے ذہن میں آتا ہے