رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 484
484 خیال ٹھیک ہے تو تم کو اپنے ملک کی محبت کی خاطر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ان کو اس فتنہ سے روکنا چاہئے لیکن میں نے دیکھا کہ میری ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔وہ بڑھے برابر یہی کہتے چلے گئے کہ یہ مرزائی ہے اور مرزائی کے ساتھ ہمارا ملاپ نہیں ہو سکتا اور نوجوان جوش میں آگئے جب میں نے محسوس کیا کہ اب یہ لوگ جوش میں آگئے ہیں اور مجھ پر حملہ کریں گے تو میں نے نہر میں چھلانگ لگادی اور میں نے چاہا کہ نہر پار کر کے وہاں سے چلا جاؤں لیکن میرے نہر میں چھلانگ لگاتے ہی پیچھے سے گاؤں کے کچھ لوگوں نے بھی چھلانگیں لگا دیں تاکہ مجھے پکڑیں چنانچہ ایک آدمی نے پیچھے سے آکر میری کمر میں اپنی بانہیں پیوست کر دیں۔میں نے رویا میں محسوس کیا کہ وہ آدمی بہت مضبوط ہے اور میں کمزور ہوں میں اس سے چھٹ نہیں سکتا اس لئے مجھے کوئی تدبیر کرنی پڑے گی چنانچہ میں نے یہ سوچ کر کہ شاید اسے ایسا تیرنا نہیں آتا فور آپشت کے بل ہو کر تیرنا شروع کیا اور خیال کیا کہ اس طرح اس کا ناک پانی میں چلا جائے گا اور وہ ڈوبنے لگے گا اور مجھے چھوڑ دے گا کچھ دیر تک اس طرح تیرتے تیرتے میں نے یکدم پیر زمین پر لگائے اور زور سے اپنے بدن کو جنبش دی جس کے نتیجہ میں اس شخص کے ہاتھ چھٹ گئے میں نے جب مڑ کر دیکھا کہ اب اس کا کیا حال ہے تو میں نے دیکھا کہ وہ شخص کوئی آٹھ دس فٹ کے فاصلہ پر کھڑا ہے اور میرے ایسا کرنے سے اس کو کچھ صدمہ تو پہنچا ہے لیکن وہ ہے تندرست اور زندہ۔تب میں نے سمجھا کہ یہ شخص بھی تیراک تھا اور اس نے ہوشیاری کے ساتھ اپنے سر کو پانی سے اونچا کئے رکھا جس کی وجہ سے یہ ڈوبنے سے بچ گیا ہے اتنے میں میں نے دیکھا کہ اس کے دو تین ساتھی اور بھی پہنچ گئے اور مجھے انہوں نے گھیر لیا لیکن وہ میرے زیادہ قریب نہیں آتے تین چار گز کے فاصلے پر رہتے ہیں۔میں نے نہر کے کنارے کے پاس پاس کبھی ادھر اور کبھی ادھر چلنا شروع کیا تاکہ کسی وقت میں ان کے حلقہ سے باہر نکل جاؤں اور اس طرح ان سے بچ جاؤں لیکن جب میں نہر کے اوپر کی طرف جاتا ہوں تو وہ بھی ساتھ ساتھ اوپر کی طرف چلتے ہیں اور جب میں نیچے کی طرف جاتا ہوں تو ہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ نیچے کی طرف چلتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ میں ان کے حلقہ سے باہر نہیں نکل سکتا جب میں اس طرح ان کے حلقہ سے باہر نکلنے سے مایوس ہو گیا تو میں نے سوچا کہ اب دلیری کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا چاہئے چنانچہ میں نے اپنے سینہ کو نگا کیا اور چھاتی تان کر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا اور یہ کہنا شروع کیا کہ