رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 449

449 نے اسلام اور احمدیت کے ذریعہ تمہاری ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں اگر اس وقت بھی تم نہیں اٹھو گی تو کب اٹھو گی اور اگر اس وقت بھی تم اپنے مقام اور درجہ کے حصول کے لئے جد و جہد نہیں کرو گی تو کب کرو گی۔میں نے دیکھا کہ جوں جوں میں نے ان کو ابھارنے کے لئے اپنے پیر ہلانے شروع کئے۔نیچے سے وہ مچھلیاں جن کو میں عورتیں سمجھتا ہوں ابھرنی شروع ہو ئیں اور وہ اتنی نمایاں ہو گئیں کہ میرے پیروں میں ان کی وجہ سے کھجلی شروع ہو گئی اور اس آدمی کے پیر آپ ہی آپ گھلنے شروع ہو گئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ بالکل گھل گئے پھر میں نے اپنے مضمون کو بدل دیا اور عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے کہا۔یہ وقت اسلام اور احمدیت کی خدمت کرنے کا وقت ہے اگر اس وقت مرد اور عورت مل کر کام نہیں کریں گے اور اسلام کے غلبہ کی کوشش نہیں کریں گے تو اسلام دنیا میں غالب نہیں آسکے گا۔تم کو چاہئے کہ اپنے مقام کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے دین کی جتنی خدمت بھی کر سکو اتنی خدمت کرو۔پھر میں اور زیادہ زور سے ان سے کہتا ہوں۔اگر تمہارے مرد تمہاری بات نہیں مانتے اور وہ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے اور تمہیں بھی دین کا کام نہیں کرنے دیتے تو تم ان کو چھوڑ دو اور انہیں بتا دو کہ تمہارا ان سے اسی وقت تک تعلق رہ سکتا ہے جب تک وہ دین کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہ الفاظ کہتے کہتے میری آنکھ کھل گئی۔یہ رویا اس رویا سے جو پہلے شائع ہو چکی ہے اور جس میں ایک باغ اور ایک بادشاہ کا ذکر ہے ایک دو دن پہلے کی ہے۔الفضل 20 جون 1950 ء صفحہ 2 28 مئی 1950ء - 500 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں جس میں کچھ میدان ہے اور اس میں اس طرح دھوپ پڑ رہی ہے جیسے کہ آٹھ نو بجے کا وقت ہوتا ہے اور اس میدان کے پہلو میں ساتھ ساتھ ایک باغ چلا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمارا معلوم ہوتا ہے اس باغ کے درخت نظر نہیں آتے لیکن سایہ