رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 448

448 498 21/20۔مئی 1950ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور اس گلی میں سے گذر رہا ہوں جس گلی میں سے گذر کر بٹالہ سے تانگوں میں آنے والے مسافر مہمان خانہ کی طرف جایا کرتے تھے۔میں تیز تیز چل رہا ہوں اور اللہ تعالی سے خطاب کر کے ایک شعر پڑھ رہا ہوں اس شعر کا پہلا مصرعہ تو قریباً پوری طرح مجھے یاد ہے ممکن ہے کوئی لفظ آگے پیچھے ہو گیا ہو۔دوسرا مصرعہ اپنی اصلی شکل میں مجھے بھول گیا ہے لیکن اکثر الفاظ یا د رہ گئے جس سے میں نے اس مصرعہ کو مرتب کر لیا وہ شعر جو میں پڑھ رہا تھا یہ تبدیل قلیل یہ ہے۔کتنی ہی راتیں لمبی ہوں یا کتنے ہی دن لمبے ہوں جب تم ہو میرے پہلو میں یونہی گزر جاتے ہیں وہ 499 الفضل 3 جون 1950ء صفحہ 3 27/26۔مئی 1950ء فرمایا : میں نے ایک خواب میں دیکھا کہ ایک مرد ہے جو اپنے پاؤں سے کسی چیز کو مسل رہا ہے مگر خواب میں میں اس کو ایک مرد نہیں سمجھتا بلکہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تمام مردوں کا نمائندہ ہے یا ان کا قائم مقام ہے اس مرد پر ایک چادر پڑی ہوئی ہے اور وہ اپنے پیروں کو زمین پر اس طرح مار رہا ہے جیسے کسی چیز کو مسلنے کے لئے بار بار پیر مارے جاتے ہیں اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اس کے پیر ہیں وہاں کیچڑ میں دنیا بھر کی عورتیں مچھلیوں کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں اور وہ ان کو اپنے پیروں سے مسلنا چاہتا ہے۔یہ دیکھ کر میرے دل میں عورتوں کی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا اور میں اس کے سینے پر چڑھ گیا اور پھر میں نے اپنی لاتیں لمبی کیں اور جہاں اس کے پاؤں ہیں وہاں میں نے بھی اپنے پاؤں پہنچا دیئے مگر وہ تو ان عورتوں کو مسلنے کے لئے اپنے پیر مار رہا ہے اور میں اس کے پاؤں کی حرکت کو روکنے اور ان عورتوں کو ابھارنے کے لئے اپنے پاؤں لمبے کر رہا ہوں اس دوران میں میں ان عورتوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں۔اے عورتو! تمہارے لئے آزادی کا وقت آگیا ہے۔تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ