رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 444

444 کے پاس گیا اور ان کی مار کو اور ان کی تکلیف کو برداشت کیا اور یہی وہ نشان ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو عطا کیا جاتا ہے جب میں نے یہ بات کہی تو یوں معلوم ہو ا جیسے آپ ہی آپ ان کے ہاتھ ڈھیلے ہو گئے اور میں ان کے پنجہ سے آزاد ہو گیا اور کھڑا ہو گیا اور واپس اپنی جگہ پر آگیا ان لوگوں میں سے کسی نے میرا پیچھا نہیں کیا نہ پھر مجھے پکڑنے یا دکھ دینے کی کوشش کی۔گیلری سے وہ آدمی تو کہیں چلے گئے جن کو میں تبلیغ کر رہا تھا لیکن میں سیدھا اس جگہ پر آیا جس کے ایک طرف احمدی عورتیں بیٹھی ہیں اور دوسری طرف مرد بیٹھے ہیں اور جیسے کوئی تقریر کرتا ہے میں نے بلند آواز سے کہا۔مجھ سے مشائخ نے کہا کہ نبیوں کو تو طاقت کا نشان دیا جاتا ہے۔تمہیں وہ نشان کہاں ملا ہے اور میں نے اس بحث میں نہ پڑنا چاہا کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں کیا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے کہ نبیوں کے شاگرد بھی تو نبیوں والی برکتیں پاتے ہیں۔میں ان کے پاس چلا گیا اور انہوں نے مجھے پکڑ لیا اور انہوں نے مجھے مارا اور چاہا کہ وہ بالکل ہی مار دیں اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں موسیٰ اور عیسیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی طاقتوں کا بھی مظاہرہ کروں تب میں نے ان سے کہا کہ موسیٰ اور عیسی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی طاقت ملی تھی کہ وہ لوگوں کے ظلموں کو برداشت کرتے تھے اور اسی طاقت کا مظاہرہ میں نے تمہارے سامنے کر دیا ہے۔تم نے مجھے تھپڑ مارا ہے اور تم نے بھی مجھے پر جسمانی ظلم کئے جس طرح ان پر کئے گئے تھے اور جس طرح انہوں نے اس کو خوشی کے ساتھ برداشت کیا اور صبر و استقلال کے ساتھ کام کرتے رہے میں نے بھی وہی نمونہ دکھایا ہے تب ان کے ہاتھ ڈھیلے ہو گئے اور لاجواب ہو گئے اور میں ان کی گرفت سے آزاد ہو گیا۔جب میں نے یہ کہا تو تمام سامعین پر ایک مجذوبانہ کیفیت طاری ہو گئی اور کیا مرد اور کیا عورتیں ان سب نے زور سے تکبیر کا نعرہ بلند کیا گویا وہ خدا تعالیٰ کے اس نشان پر خوش ہوئے اور مطمئن ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جو اب سمجھایا جو حقیقی جواب تھا اور دشمن کا مونہہ اس کی اپنی ہی حرکتوں سے بند کر دیا۔الفضل 25۔جنوری 1950ء صفحہ 5۔4