رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 427

427 477 21۔اپریل 1949ء فرمایا : جلسہ کے اختتام کے بعد جس دن ہم ربوہ سے واپس چلے (یعنی 21۔اپریل 1949ء بروز جمعرات) مجھے ایک الہام ہوا۔میں نے جس دن ربوہ سے واپس آنا تھا خاندان کی اکثر سواریاں ٹرین کے ذریعہ آئیں اور میں موٹر کے ذریعہ آیا۔اس سے ایک تو پیسے کی بچت ہو گئی کیونکہ اگر میں موٹر میں نہ آتا تو موٹر نے خالی آنا تھا۔دوسرے وقت کی بچت ہو گئی۔میں تین چار مستورات اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے چند آدمی ہم موٹر پر آئے اور باقی افراد ٹرین کے ذریعہ۔پہلے ٹرین لیٹ تھی اور اس کے آنے میں دیر ہو گئی اور یقین ہو گیا کہ یہ گاڑی لاہور کو جانے والی گاڑی کو نہیں پکڑ سکے گی اس لئے ہم نے سب سواریوں کو واپس بلا لیا کہ سب کو لاریوں میں لے جائیں گے لیکن جب ٹرین آئی تو ایک انسپکٹر جو ساتھ تھا اس نے کہا کچھ ڈبے لاہور سے اگلے جنکشن پر آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگوں کے لئے ریز رو ہیں اس لئے اگلی گاڑی ان سواریوں کو لئے بغیر نہیں چلے گی۔اس اطلاع پر پھر سواریوں کو ٹرین کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔جب ٹرین چلی تو معلوم ہوا کہ ان کا کھانا رہ گیا ہے چنانچہ کھانا موٹر کے ذریعہ چنیوٹ بھجوایا گیا۔اب صورت یہ تھی کہ جب تک موٹر واپس نہ آئے میں لاہور نہیں آسکتا تھا اس لئے میں لیٹ گیا اور مجھ پر ایک غنودگی سی طاری ہو گئی اس نیم غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں خداتعالی کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں۔جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا میں نے اسی حالت میں سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں ” جاتے ہوئے" سے کیا مراد ہے۔اس پر میں نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکا لیکن جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا اسی طرح اللہ تعالی کوئی ایسی صورت پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی با فراط میسر آنے لگے گا اگر پانی پہلے ہی مل جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ یہ وادی بے آب و گیاہ نہیں یہاں تو پانی موجود ہے۔فرمایا : ”پاؤں کے نیچے" سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے جس طرح وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی بہہ نکلا تھا اسی طرح یہاں خدا تعالیٰ