رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 409

409 جس طرح آئینہ سامنے ہونے کی حالت میں انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے میں اپنے نتھنوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان میں بڑے بڑے سوراخ نظر آتے ہیں وہ پھولے ہوئے ہیں اور پانی کی سوزش کی وجہ سے اندر سے نہایت سرخ ہیں اور آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو ان سے بھی پانی بہتا چلا جاتا ہے اس وقت میں کہتا ہوں یہ آنسو نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے میرا نفس گداز ہو کر بہہ رہا ہے۔الفضل 18۔اپریل 1948ء صفحہ 4 456 28۔مارچ 1948ء فرمایا : میں نے ایک نہایت مبشر خواب دیکھا۔جاگا تو وہ خواب مجھے یاد تھا میں اس سے لطف اٹھاتا رہا مگر دوبارہ سونے کے بعد جب صبح اٹھا تو وہ خواب مجھے بھول گیا صرف اتنا یاد ہے کہ ڈلہوزی یا اس کے قریب کا کوئی پہاڑی مقام ہے وہاں ہم ہیں اور اس جگہ ہم نے کوئی بات شروع کی ہے۔آنکھ کھلنے پر سب باتیں مجھے یاد تھیں مگر جب میں دوبارہ سویا اور سو کر اٹھاتو وہ باتیں مجھے بھول گئیں لیکن بہر حال وہ مبارک باتیں تھیں۔اس کے بعد صبح میں نے دیکھا کہ گویا میں قادیان میں ہوں وہ چوک جو مسجد مبارک کے سامنے ہے میں نے دیکھا اس میں کچھ سکھ سوار ہیں اور ان کے پاس رائفلیں بھی ہیں وہ گھوڑوں پر ہیں یا اونٹوں پر۔اس کے متعلق میں کچھ کہہ نہیں سکتا اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو قادیان کے مشرق یعنی دارالانوار کی طرف جاتے ہوئے دیکھا مشرق کی طرف دار الانوار اور پرانے قادیان کے درمیان جو علاقہ ابھی خالی ہے اس پر ہوتے ہوئے میں نے دیکھا کہ میں جنوب میں ننگل گاؤں کی طرف جا رہا ہوں۔میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ میرے ایک ساتھی نے مجھے اشارہ کیا کہ دیکھیں کھیت میں کچھ تیرا ترے ہیں پچاس ساٹھ یا اس کے قریب تلیر ہیں۔گویا ان کی ایک ڈار وہاں آکر اتری ہے اور اس خواہش سے اس نے مجھے اشارہ کیا ہے کہ مجھے ان کا شکار کرنا چاہئے۔میں نے اسے کہا کہ اچھا بندوق منگواؤ۔خواب میں میں ایسا سمجھتا ہوں کہ بندوق ساتھ ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ساتھ نہیں۔چنانچہ تھوڑی دیر انتظار کے بعد جب میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے تو مجھے بتایا گیا کہ بندوق لینے کے لئے آدمی گئے ہیں اس وقت میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ شیخ نور الحق صاحب جو ہماری زمینوں کے دفتر کے انچارج ہیں اور مولوی نور الحق