رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 408
408 پس اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں کوئی بڑی کامیابی حاصل ہو گی لیکن ظاہری تعبیر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خواب منذر بھی ہو سکتی ہے 104 اس کے یہ معنے بھی کئے جاسکتے ہیں کہ ان کے کام میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی اور دشمن انہیں نا کام کرنے کی کوشش کرے گا چنانچہ اس رؤیا کے بعد جب میں کراچی پہنچا۔تو تیرہ مارچ ( 13 مارچ 1948ء) کو میں نے انہیں تار دیا کہ میں نے ایسا ر دیا دیکھا ہے اور میں نے لکھا کہ گو خواب میں قتل سے مراد کوئی بڑی کامیابی ہو سکتی ہے لیکن ظاہری تعبیر کے لحاظ سے چونکہ یہ رویا منذر ہے اس لئے احتیاط رکھنی چاہئے۔اس کے جواب میں مجھے ان کی طرف سے تار بھی ملا اور پھر تفصیلی خط بھی آگیا جس میں ذکر تھا کہ بعض حکومتیں اپنی ذاتی اغراض کے لئے مخالفت کر رہی ہیں اور کام میں مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہیں۔سیر روحانی جلد 2 صفحہ 66-65 (شائع کردہ الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ) نیز دیکھیں۔الفضل 26۔فروری 1950ء صفحہ 2 و 28 فروری 1950ء صفحہ 2 454 مارچ 1948ء فرمایا : چند دن ہوئے میں نے دیکھا کہ میں اپنے آپ کو بغیر آئینہ کے دیکھ رہا ہوں میں نے دیکھا کہ میں اٹھارہ بیس سال کا ہوں میری داڑھی مونچھ نہیں اور میرا رنگ موجودہ رنگ سے بہت سفید ہے۔خواب میں مجھے اپنی عمر پر کوئی تعجب نہیں آتا لیکن رنگ کے متعلق میں کسی سے کہتا ہوں کہ جتنا سفید رنگ میرا پہلے تھا اب اس سے بہت زیادہ صاف اور سفید ہو گیا ہے۔الفضل 18۔اپریل 1948ء صفحہ 5 455 مارچ 1948ء فرمایا : چند دن ہوئے میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر بیٹھا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی شدت میں رو رہا ہوں اور اس قدر خدا تعالیٰ کی محبت میرے دل میں پیدا ہو رہی ہے کہ میرا جسم اندر سے گداز ہو کر اس طرح بہہ رہا ہے جیسے نہر جاری ہوتی ہے۔میری آنکھوں سے آنسوؤں کی بجائے پانی کا ایک چشمہ جاری ہے اور میری ناک سے بھی پانی کی ایک نہر رواں معلوم ہوتی ہے اور باوجود اس کے کہ آئینہ میرے سامنے نہیں۔میں اپنے آپ کو اسی طرح دیکھ رہا ہوں