رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 402

402 درس کے مقام پر نشان رکھا ہوا تھا مگر اب چونکہ وہ قرآن مجھے ملا نہیں اس لئے کسی اور قرآن سے میں وہ مقام تلاش نہیں کر سکتا۔اس وقت میں نے سوچا کہ درس کے اعلان کے بعد یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ میں درس نہ دوں اگر اس رکوع کا میں درس نہیں دے سکتا تو کسی اور رکوع کا ہی درس دے دوں اس وقت کوئی خاص آیت میرے ذہن میں نہیں لیکن جس طرح نقطہ میں میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ کوئی آیت بھی میرے سامنے آئے گی تو میں درس دے دوں گا۔یہ خیال آتے ہی میرے دل میں آیا کہ میں کیوں نہ اس بات پر درس دوں کہ قرآن کریم کی تفسیر کس طرح کرنی چاہئے اور قرآن شریف کے صحیح مطالب سمجھنے کے لئے ہمارے پاس کو نساذ ریعہ ہے۔یہ خیال آتے ہی میں نے کہا کہ میں آج حسب دستور تو درس نہیں دیتا کیونکہ وہ قرآن کریم جس پر میرے نوٹ ہیں اس وقت میرے پاس نہیں اور مجھے معلوم نہیں کہ پہلا درس کہاں ختم ہوا ہے مگر آج میں اس بات پر درس دیتا ہوں کہ قرآن کریم کی تفسیر کن اصول پر کی جانی چاہئے۔اس وقت جیسے عام سنت اللہ میرے ساتھ ہے میں یہ فقرے تو کہہ رہا ہوں مگر نہ مضمون میرے ذہن میں ہے اور نہ کوئی آیت میرے ذہن میں ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں نے اس موضوع پر تقریر شروع کی تو خود بخود مضمون میرے سامنے آتا جائے گا۔آیت بھی میرے سامنے آجائے گی۔عام طور پر جب میں بغیر نوٹوں کے تقریر کیا کرتا ہوں تو بسا اوقات دو چار فقرے کہنے تک مجھے خود بھی معلوم نہیں ہو تا کہ میرا مضمون کیا ہے اس وقت اچانک مضمون مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے اور میں تقریر شروع کر دیتا ہوں۔اس وقت بھی یہ تو میرے ذہن میں آگیا ہے کہ میں قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کروں مگریہ کہ کن آیتوں سے یہ اصول مستنبط کروں گا یہ بات میرے ذہن میں نہیں۔جب میں نے کہا کہ میں قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کرنا چاہتا ہوں تو یکدم میری زبان پر ایک آیت جاری ہوئی۔آج تک جاگتے ہوئے میں نے اس آیت سے کبھی یہ مضمون اخذ نہیں کیا اور نہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی بھر کبھی اس آیت سے وہ استدلال کیا ہوا ہو جو میں خواب میں کرتا ہوں بہر حال جب میں نے قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کرنے چاہے تو یکدم یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي أَمْرٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّسُولِ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ