رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 401

401 445 اوائل نومبر 1947ء فرمایا : کچھ دن ہوئے میں دعا کر رہا تھا کہ متواتر یہ آیات میری زبان پر جاری ہو ئیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور یہ آیات بھی سورۃ فاتحہ کی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ہمیں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ موجودہ فتنہ کا علاج ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔الفضل 26۔نومبر 446 41947 18۔نومبر 1947ء فرمایا : میں نے ایک رویا دیکھی جس میں میں نے دیکھا کہ ایک میدان ہے اسی طرز کا جس طرز کا یہ میدان ہے مگر اس سے بڑا۔اس میدان میں کچھ دوست ہیں اور کوئی شخص غیر بھی شاید ہند و ملاقات کے لئے آیا ہوا ہے۔میں نے اس وقت چاہا کہ قرآن شریف کا درس دوں چنانچہ میں نے اس آنے والے سے کچھ باتیں کرنے کے بعد جو مجھے یاد نہیں رہیں درس دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ میں اب قرآن شریف کا درس دینا چاہتا ہوں یہ کہہ کر میں اٹھاتا کہ میں اپنا وہ قرآن لے آؤں جس پر میرے نوٹ لکھے ہوئے ہیں۔ایک چھوٹی سی دیوار ہے جس میں طاقچہ سابنا ہوا ہے میں نے سمجھا کہ میرا قرآن وہاں پڑا ہو گا۔مگر جب میں نے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں نہیں۔اس کے مقابل میں ایک اور دیوار ہے اور اس میں بھی طاقچے سے بنے ہوئے ہیں پھر میں نے وہاں دیکھنا شروع کیا مگر وہاں بھی کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ میرا قرآن وہاں نہیں۔اس وقت مجھے پہلے تو یہ خیال آیا کہ میں گھر سے قرآن منگواؤں اور درس دے دوں مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میرے درس کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے اور جہاں پہلے درس دیا تھا اس کے اگلے حصہ سے اب درس شروع کرنا ہے لیکن جس طرح درمیان میں وقفہ پڑ جائے اور ایک دو دن گزر جائیں تو انسان بھول جاتا ہے کہ وہ کو نسار کو ع تھا جس کا میں درس دے رہا تھا اسی طرح میں بھی بھول گیا ہوں کہ میں کونسے رکوع کا درس دے رہا تھا اس وجہ سے میں کسی اور قرآن سے درس نہیں دے سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ میرے قرآن پر